امت مسلمہ کے بڑے مسائل کی وجہ قرآن سے دوری اور بے عملی ہے، سراج الحق

تازہ ترین

تازہ ترین

امت مسلمہ کے بڑے مسائل کی وجہ قرآن سے دوری اور بے عملی ہے، سراج الحق
امت مسلمہ کے بڑے مسائل کی وجہ قرآن سے دوری اور بے عملی ہے، سراج الحق

لاہور:امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ قرآن کے مطالعے اور غوروخوض کے ذریعے ہر انسان اس سے فیض ہدایت پا سکتا ہے، قرآن مجید انسانیت کے لیے رحمتوں، برکتوں اور روشنی کا ذریعہ ہے۔

اگر ہم ہر آیت کا مخاطب اپنی ذات کو بنائیں اور یہ تصور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت میرے لیے نازل کی ہے تو ہم اس پر عمل کے ذریعے دنیا و آخرت کی کامیابیاں سمیٹ سکتے ہیں،امت مسلمہ کے بڑے مسائل کی وجہ قرآن سے دوری اور بے عملی ہے۔

امت مسلمہ آج بھی قرآن و سنت کو اپنا حقیقی رہبر مان کر عروج حاصل کر سکتی ہے، نوجوانوں میں قرآن کے مطالعے کا ذوق و شوق قابل تحسین ہے۔ یہ قرآن کا معجزہ ہے کہ دنیا بھر میں کروڑوں مسلمان اس کے مکمل حافظ ہیں اور ہر سال ماہ رمضان میں نماز تراویح میں اس کو سناتے ہیں۔

انھوں نے مسجد کی انتظامیہ، امام مسجد، قاری صاحبان اور مدرس حافظ محمد ادریس کو خصوصی مبارک باد دی اور اس امید کا اظہارکیا کہ رمضان کے علاوہ بھی قرآن پاک کی تعلیمات کو سمجھنے کے لیے اس طرح کے پروگرامات کو ترتیب دیا جائے گا۔

سراج الحق نے کہا کہ رمضان المبارک کے مہینے میں قرآن کو خاص اہمیت حاصل ہے کیوں کہ یہ مہینہ نزول قرآن کا ہے۔ رمضان میں قرآن پاک کی جتنی تلاوت کی جائے اتنی ہی زیادہ سکینت طاری ہوتی ہے۔

دنیا کا ہر انسان تادم واپسی برابر امتحان گاہ میں ہے۔ اس امتحان میں کامیابی کا واحد ذریعہ قرآن و سنت کا فہم اور اس پر عمل درآمد ہے۔ ہم اسی صورت میں قرآن سے وہ نور حق پا سکیں گے۔ جب اس سے ہمارا تعلق روزانہ کی بنیاد پر ہو اور اس کو ترجمے اور تفسیر کے ساتھ پڑھ کر اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنائے۔

رمضان المبارک میں یہ جو مشق ہم نے کی ہے اس کو جذبے کے ساتھ پورا سال جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت عالم اسلام مشکلات سے دوچار ہے۔

انھوں نے کہا کہ مسجد اقصی مسلمانوں کا مقدس ترین مقام اور قبلہ اول ہے۔ جمعۃ الوداع پر نمازیوں پر حملہ شدید طور پر قابل مذمت ہے۔ بیت المقدس سے اسلامی، ثقافتی اور تاریخی نقوش کو مٹایا جا رہا ہے۔ عالمی ضمیر خاموش تماشائی بنا ہواہے۔

عالمی ادارے اسرائیل کو پرتشدد کارروائیوں سے روکنے کے لیے اقدامات کریں۔انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اس ملک میں قرآن و سنت کا نظام چاہتی ہے۔ جس میں قانون ہر غریب و امیر کے لیے یکساں ہو۔ حکمران اور عوام کے لیے احتساب ایک سا ہو۔ سودی نظام کا خاتمہ ہو۔

Related Posts