کراچی: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکا نے افغانستان میں پاکستان کےکردار کو سراہا ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ پاکستان امریکا کو ایئر بیس یا اڈے دینے کا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نئی امریکی انتظامیہ سے بہترتعلقات چاہتا ہے۔
نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات بہت زیادہ مذہبی اور تاریخی نوعیت کے ہیں ، ہر مشکل گھڑی میں برادر اسلامی ملک نے ہمارا ساتھ دیا ہے ۔
کشمیر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا کشمیرکے حوالے سے موقف بہت واضح ہے تاہم بھارت نے کشمیر کے معاملے پر تھرڈ پارٹی سے ہمیشہ انکار کیا، میرے خیال میں بھارت ثالثی کے لیے تیار نہیں ہے۔
دورہ سعودی عرب سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے تین روزہ دورے کے دوران بہت ساری کامیابیاں سمیٹی ہیں۔ عید کے بعد سعودی عرب سے وفد پاکستان آئے گا، سعودی وزیرخارجہ بھی آئینگے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سعودی عرب بھی افغانستان میں امن چاہتا ہے۔ ہم بھی چاہتے ہیں افغانستان اپنے مستقبل کا فیصلہ بات چیت سے حل کرے۔ ہمسایہ ملک کے معاملات میں مداخلت نہیں کر رہے، خدانخواستہ اگر وہاں انارکی پھیلی تو ہمیں بھی نقصان ہو گا، افغانستان کا حل جنگ نہیں مذاکرات سے ہی حل ہوگا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی خواہش ہے برادر ملکوں میں غلط فہمیوں کو دور ہونا چاہیے، پاکستان کے امت مسلمہ کے ساتھ اس وقت بہترین تعلقات ہیں، قطر، یمن، ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری آرہی ہے، پاکستان کے چین کے ساتھ تاریخی تعلقات ہے اوررہیں گے۔ پاکستان امریکا تعلقات میں اتار چڑھاؤ رہا۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مسجد اقصیٰ میں ظلم کیا گیا، مذمت کرتے ہیں۔ سعودی عرب میں اسرائیل کے حوالے سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی، اسرائیل کے حوالے سے پاکستان پر کوئی دباؤ نہیں، سعودیہ نے دباؤکے باوجود اسرائیل بارے موقف تبدیل نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں : نوکری کے پہلے ہی دن مجھ پر چوری کا الزام لگایا گیا تھا، گلوکار کرس مارٹن
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








