کراچی اس وقت شدید گرمی کی ایسی لپیٹ میں ہے جو صرف موسم نہیں بلکہ ایک جان لیوا بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ مسلسل چلنے والی ہیٹ ویو نے شہر کو جھلسا دیا ہے اور اب تک کم از کم 10 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے اچانک اور غیر اعلانیہ بجلی کے بڑے بحران نے جس نے شہریوں کو اندھیرے اور گرمی دونوں میں بے حال کر دیا ہے۔
عام طور پر قابلِ برداشت سمجھی جانے والی گرمی اس بار ایک خوفناک صورتحال میں بدل چکی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں جیسے ماڈل کالونی، کیماڑی، کھارادر، لیاری، اورنگی ٹاؤن، بلدیہ ٹاؤن اور سعیدآباد میں 12 سے 16 گھنٹے تک کی طویل لوڈشیڈنگ نے زندگی مفلوج کر دی ہے۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ بجلی کی بندش کسی پیشگی اطلاع کے بغیر ہوتی ہے ایک علاقے میں بجلی بحال ہوتی ہے تو دوسرے میں فوراً بند کر دی جاتی ہے۔
ماڈل کالونی کے ایک رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صورتحال انتہائی اذیت ناک ہے۔ ان کے مطابق کبھی گھنٹوں اندھیرا رہتا ہے، گرمی ناقابل برداشت ہو جاتی ہے پھر اچانک کچھ دیر کے لیے بجلی آتی ہے اور فوراً دوبارہ چلی جاتی ہے۔ نہ کوئی اطلاع ہوتی ہے نہ وقت کا علم، بس مسلسل تکلیف ہے۔
یہ بحران اب صرف روایتی لوڈشیڈنگ والے علاقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ علاقے بھی متاثر ہو رہے ہیں جو پہلے اس سے مستثنیٰ سمجھے جاتے تھے۔ لیاقت آباد C1، ناظم آباد، گل بہار، رضویہ اور پاک کالونی جیسے علاقے بھی اندھیرے میں ڈوب گئے ہیں۔ اسی طرح نیو کراچی، نارتھ کراچی، نارتھ ناظم آباد، بفر زون، شادمان ٹاؤن، گلشن عمیر اور اسکیم 33 میں بھی بجلی کی عدم دستیابی نے شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے جہاں پنکھے اور اے سی بند ہونے کے باعث گرمی ناقابل برداشت ہو چکی ہے۔
شہریوں میں سب سے زیادہ غصہ کے الیکٹرک کی موبائل ایپ پر ظاہر کیا جا رہا ہے، جو صرف یہ بتاتی ہے کہ بجلی بند ہے لیکن بحالی کے وقت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کرتی۔ صارفین کے مطابق یہ رویہ انتہائی مایوس کن ہے کیونکہ انہیں صرف اندھیرے کا اعتراف ملتا ہے کوئی حل نہیں۔
سوشل میڈیا پر ایک صارف نے لکھا کہ یہ ایک مذاق بن گیا ہے ہمیں بتایا جاتا ہے کہ آپ اندھیرے میں ہیں لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ روشنی کب آئے گی۔ شہر جل رہا ہے اور جواب خاموشی ہے۔
صورتحال کا انسانی نقصان بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ اموات میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ اسپتالوں میں انتہائی نگہداشت کے یونٹس کو چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے جس سے عوامی غصہ مزید بڑھ گیا ہے اور اس کا رخ براہِ راست کے الیکٹرک کی طرف ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان نے بھی اس صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سنگین غفلت کے باعث کے الیکٹرک کا لائسنس فوری طور پر معطل کیا جائے۔
شام ڈھلنے کے ساتھ ساتھ شہر کی حالت مزید ابتر ہوتی جا رہی ہے اور بڑا سوال یہ ہے کہ آخر کتنی جانوں کے ضیاع کے بعد یہ نظام درست ہوگا۔ اس وقت کراچی ایک ایسے شہر کی مانند ہے جو جلتی ہوئی بھٹی میں تبدیل ہو چکا ہے اور کسی فوری ریلیف کا منتظر ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








