پاکستان کی نگران حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے بیل آؤٹ پیکج کے تحت اصلاحات لانے کے لیے سرکاری کمپنیوں میں نظم ونسق بہتر بنانے کی کوشش کررہی ہے اور اس نے اس ضمن میں دس کمپنیوں یا اداروں کو نشان زد کیا ہے جن کی نج کاری کی جائے گی۔
آئی ایم ایف کی طرف سے تین ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے تحت سرکاری ملکیت والے اداروں (ایس او ایز) کو مضبوط گورننس کی ضرورت ہوگی کیونکہ ان کا خسارہ قومی خزانے میں سوراخ کر رہا ہے۔واضح رہے کہ عالمی مالیاتی ادارے کا یہ پیکج پاکستان کے خودمختار قرضوں کی عدم ادائی کو روکنے کے لیے اہم تھا۔
یہ بھی پڑھیں:
طالبان حکومت کی پاک افغان سیکورٹی مسائل کے حل کیلئے مشترکہ کمیٹی کی تجویز
نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے جمعرات کو کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ 2020 تک ایس او ایز کے جمع شدہ نقصانات 500 ارب روپے (1.74 ارب ڈالر) تھے۔انھوں نے کہا کہ ایس او ایز سے متعلق حکومت کی مسودہ پالیسی کے تحت آزاد ڈائریکٹرز کا تقرر نامزدگی کے عمل کے ذریعے ہوگا اور کوئی بھی وزارت گورننس کو بہتر بنانے کے لیے ایس او ایز کو ہدایات جاری نہیں کرسکے گی۔
بعد ازاں نگران وزیر نج کاری فواد حسن فواد نے کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) کے لیے صرف ایک بولی دہندہ باقی رہ گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ کووِڈ 19 سے قبل چار کمپنیاں پی ایس ایم کے لیے بولی لگانے میں دلچسپی رکھتی تھیں اور اس کی اہل تھیں لیکن ان میں سے تین اسٹیل کی عالمی طلب سمیت مختلف وجوہ کی بنا پر پیچھے ہٹ گئی ہیں۔
فوادحسن فواد نے مزید کہا کہ نگران حکومت ٹرانزیکشن کے لیے مقررکردہ مالیاتی منصوبہ ساز (فنانشل پلانر) سے بات چیت کر رہی ہے۔انھوں نے وضاحت کی کہ صرف پاکستان اسٹیل ملز کے آپریشنل اثاثے فروخت کے لیے تھے۔
پاکستان اپنے کئی ایک سرکاری اثاثوں کو بیرونی کمپنیوں کو آؤٹ سورس کرنے پر بھی غور کر رہا ہے۔
مارچ میں اس نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلائے جانے والے تین بڑے ہوائی اڈوں پر آپریشنز اور زمینی اثاثوں کی آؤٹ سورسنگ کا آغاز کیا تھا، جس کا مقصد اس کی بیمار معیشت کے لیے زرِمبادلہ کے ذخائر پیدا کرنا تھا۔
حکومت نے مالی سال 2024 کے بجٹ میں نج کاری کے تعطل کے عمل سے صرف 15 ارب پاکستانی روپے (52.42 ملین ڈالر) کی وصولیوں کا بجٹ مختص کیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








