اسلام آباد: مالی سال 2024-25 کے وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 سے 15 فیصد اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی 10 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
ملازمین کے اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی ) کے لیے فنڈز بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے۔ قومی خزانے پر بوجھ کم کرنے کے لیے پنشن اصلاحات متعارف کرائے جانے کا بھی امکان ہے۔
حکومت آئندہ بجٹ کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ٹیکس ریونیو کا ہدف 12.5 ٹریلین روپے مقرر کرنے پر غور کر رہی ہے۔ تنخواہوں کے حوالے سے وزارت خزانہ 10 فیصد اضافے کی طرف مائل ہے۔
ممکنہ دباؤ کی وجہ سے مالیاتی ایڈجسٹمنٹ ہو سکتی ہے جو اس اضافے کو 12.5 فیصد یا 15فیصد تک بڑھا سکتی ہے۔
ایک اور تجویز زیر غور ہے جو گریڈ 20، 21 اور 22 میں اعلیٰ گریڈ کے افسران کے لیے کار منیٹائزیشن کے فوائد کو 20 فیصد سے 25 فیصد تک بڑھانا ہے۔
اس وقت گریڈ 20 کے افسران کو 67 ہزار روپے ماہانہ، گریڈ 21 کے افسران کو 77 ہزار روپے ماہانہ اور گریڈ 22 کے افسران کو 87 ہزار روپے ماہانہ ملتے ہیں۔ افراط زر کے دباؤ کے پیش نظر، اضافے پر غور کیا جا رہا ہے، کیونکہ 2012 میں پالیسی کے آغاز کے بعد سے ان شرحوں کو ایڈجسٹ نہیں کیا گیا ہے۔
حکومت 2024-25 کے اگلے بجٹ میں پنشن اصلاحات متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ زیر غور ایک تجویز یہ ہے کہ ماہانہ 100000 روپے سے زیادہ وصول کرنے والے پنشنرز پر ٹیکس عائد کیا جائے، ممکنہ طور پر اگلے بجٹ سے زیادہ آمدنی والے پنشنرز کے لیے مختلف ٹیکس سلیب متعارف کرائے جائیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








