سانحہ آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) کے 11 سال مکمل ہونے پر ملکی سماجی و سیاسی شخصیات شہداء کو خراجِ تحسین پیش کر رہی ہیں۔ واقعے پر افسوس کے اظہار کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف عزمِ مصمم بھی سامنے آرہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سانحہ آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) کی یاد میں قوم شہدا کو خراجِ تحسین پیش کرے گی جس کے لیے ملک بھر میں تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔ملک بھر میں اے پی ایس کے شہدا بشمول اساتذہ اور طلبہ کی مغفرت اور درجات کی بلندی کی دعائیں کی جائیں گی۔
وزیراعظم شہباز شریف سمیت دیگر اہم شخصیات نے سانحہ اے پی ایس کے 11سال کی تکمیل پر اپنے اپنے پیغامات میں دہشت گردی کے خلاف عزمِ مصمم کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم سانحہ اے پی ایس کے شہداء کوخراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے وطن کے مستقبل کیلئے قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
وزیراعظم کا سانحۂ آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پشاور پر پیغام
آج ہم سانحۂ آرمی پبلک اسکول پشاور کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، جنہوں نے وطنِ عزیز کے مستقبل کے لیے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ دلخراش سانحہ پوری قوم کے لیے ایک عظیم آزمائش تھا، جس نے ہمارے دلوں کو… pic.twitter.com/Ue9e9w2qqe
— PTV News (@PTVNewsOfficial) December 16, 2025
اپنے پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ یہ دلخراش سانحہ پوری قوم کیلئے عظیم آزمائش تھا جس نے ہمارے دلوں کو غم سے بھر دیا، مگر ہمارے حوصلے پست نہ کرسکا۔ معصوم بچوں، اساتذہ اور عملے کی قربانیاں ہماری قومی یادداشت کا حصہ ہیں اور دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہی اس سانحے کا حقیقی انصاف ہے۔
یاد رہے کہ ستمبر 2020 میں سانحہ اے پی ایس (آرمی پبلک اسکول) پر جوڈیشل انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں دھمکیوں کے بعد سکیورٹی گارڈز کی کم تعداد اور درست مقامات پر عدم تعیناتی کی نشاندہی کی گئی تھی۔
سانحہ اے پی ایس پر بننے والی جوڈیشل انکوائری کمیشن نے ہولناک سانحے کی رپورٹ 5 سال قبل پبلک کردی، جس میں سانحہ اے پی ایس کو سکیورٹی کی ناکامی قرار دیا گیا تھا۔
جاری کی گئی رپورٹ میں کمیشن نے اسکول کی سیکیورٹی پر بھی سوالات اٹھائے اور بتایا کہ دھمکیوں کے باوجود سیکیورٹی گارڈز کی کم تعداد اور درست مقامات پر عدم تعیناتی بھی نقصان کا سبب بنی، غفلت کا مظاہرہ کرنے والی یونٹ کے متعلقہ افسران و اہلکاروں کو سزائیں بھی دی گئیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








