ایران: مظاہرین کا ساتھ دینے پر 115 سیکورٹی اہلکار گرفتار

تازہ ترین

تازہ ترین

ایران انٹرنیشنل چینل کے مطابق مہسا امینی کے قتل کے بعد سے ملک بھر میں پھیلنے والے مظاہروں کی حمایت کرنے پر ایرانی حکام نے فوج کے 115 ارکان کو گرفتار کر لیا ہے۔

گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا تھا کہ مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن میں بچوں سمیت 14,000 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

لیڈی ڈیانا پر بنی فلم میں سے قبولِ اسلام کا سین کاٹے جانے کا انکشاف

’اوسلو‘ میں قائم ایران میں انسانی حقوق کی تنظیم نے رپورٹ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے اب تک کم از کم 448 مظاہرین کو ہلاک کیا ہے، جن میں سے زیادہ تر سیستان بلوچستان میں سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ علاقہ پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں پر جنوب مشرقی ایران میں واقع ہے۔

ایران میں حکام نے پہلی مرتبہ تصدیق کی ہے کہ ستمبر کے وسط میں کردخاتون مہساامینی کی پولیس کے زیرِحراست موت کے بعد شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران میں 200 سے زیادہ افرادہلاک ہوئے ہیں۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ارناکے مطابق وزارتِ داخلہ کی ریاستی سلامتی کونسل کی جانب سے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق ان ہلاکتوں میں سکیورٹی فورسز،عام شہری، فسادی اورحکومت مخالف مسلح عسکریت پسند شامل ہیں۔

ایرانی حکومت کی جانب سے سرکاری سطح پر پہلی مرتبہ احتجاجی مظاہروں کے دوران میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد جاری کی گئی ہے۔اس سے چند روز قبل سپاہِ پاسداران انقلاب کے ایک سینیرکمانڈر بریگیڈیئرجنرل امیرعلی حاجی زادہ نے کہا تھا کہ مظاہروں میں 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ایرانی حکام انھیں ’فسادات‘ قرار دیتے ہیں۔

ریاستی سلامتی کونسل اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر کے فراہم کردہ اعدادوشمار انسانی حقوق کی تنظیموں کی بیان کردہ ہلاکتوں کی تعداد سے کہیں کم ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے مظاہروں میں 400 سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا ہے۔

Related Posts