ایک لاکھ 40 ہزار ہیلتھ ورکرز، 35 ملین کا ہدف! جانیں تاریخ ساز ویکسینیشن مہم کا آغاز کب ہوگا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ ڈبلیو ایچ او)

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے حکومتِ پاکستان کے تعاون سے 35.4 ملین (تین کروڑ چون لاکھ) بچوں کو خسرہ اور روبیلا جیسی خطرناک بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک بڑی ویکسین مہم کی تیاری شروع کر دی ہے۔ملک گیر مہم 17 سے 29 نومبر 2025 تک جاری رہے گی۔

ڈبلیو ایچ او کی مدد سے حفاظتی ویسکیینیشن مہم کے لیے ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد ہیلتھ ورکرز جن میں ویکسینیٹرز، ٹیم اسسٹنٹس اور سوشل موبلائزرز شامل ہیں کو تربیت دی جا رہی ہے۔ تربیت میں حفاظتی ٹیکوں کی درست تکنیک، کمیونٹی سے رابطہ، مائیکرو پلاننگ، اور ویکسین کے بعد ممکنہ ردِعمل سے نمٹنے کے طریقے شامل ہیں۔

اس مہم کے دوران خاص طور پر ان اضلاع پر توجہ دی جائے گی جہاں خسرہ اور روبیلا کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ان علاقوں میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے بھی پلائے جائیں گے تاکہ بچوں کو ایک ہی وقت میں کئی بیماریوں سے بچایا جا سکے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق 2025 میں پاکستان میں خسرہ کے 16 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 57 فیصد ایسے بچے تھے جنہیں کبھی ویکسین نہیں لگی تھی۔ ملک کے 101 اضلاع کی 432 یونین کونسلز میں وبا پھوٹنے کے واقعات سامنے آئے، جو تشویشناک حد تک زیادہ ہیں۔

فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن (FDI) کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر صوفیہ یونس کے مطابق ہم اپنے بچوں کو ایسی بیماریوں سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں جن سے بچاؤ ممکن ہے۔ یہ مہم ہماری آنے والی نسلوں کے بہتر اور صحت مند مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے پاکستان میں نمائندہ ڈاکٹر لو ڈاپینگ نے کہا کہ سائنسی شواہد واضح ہیں کہ ویکسین زندگی بچاتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او پاکستان کے ساتھ ہے تاکہ کوئی بھی بچہ پیچھے نہ رہ جائے چاہے وہ کہیں بھی رہتا ہو۔

واضح رہے کہ ڈبلیو ایچ او 1960 سے پاکستان میں فعال ہے اور وفاقی و صوبائی سطح پر حکومت کے ساتھ مل کر صحت عامہ کے پروگراموں میں تکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے۔

Related Posts