کراچی میں پندھرویں سالانہ بین الاقوامی کتب میلے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کاکہناتھا کہ میں بچپن میں کتابیں پڑھنے کااتنا شوق تھا کہ دوستوں اورلائبریری کی کتابیں اپنے پاس رکھ لیا کرتاتھا۔
پندھرویں بین الاقوامی کتب میلے کا افتتاح کراچی ایکسپو سینٹر میں ہوگیا ہےجو9دسمبر تک جاری رہے گا جبکہ عوامی داخلہ کے اوقات کار صبح 10 بجے سے لے کر رات 9بجے تک ہوں گے۔
عالمی کتب میلے میں اس سال 330سے زائد اسٹالزلگائے گئے ہیں جس میں 17 ممالک کے تقریباً 40 ادارے حصہ لے رہے ہیں جبکہ پاکستان بھر سے 136 نامور پبلشرز نے بھی اپنے اسٹالز لگائے ہیں ۔
منتظمین کے مطابق اس سال کتب میلے میں چار لاکھ سے زائد افراد کی آمد متوقع ہے، مزید برآں کتب میلے میں میں مختلف کتابوں کی رونمائی کی تقریبات بھی منعقد کی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ نے عالمی کتب میلے کاافتتاح کیا جبکہ اس موقع پرمتحدہ قومی مومنٹ پاکستان کے رہنما عامرخان ،فیصل سبزواری، خواجہ اظہار الحسن، ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب کے علاوہ بڑی تعداد میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنےوالے افراد موجود تھے۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ کاکہناتھا کہ لوگوں میں تاثرپایاجاتا ہے کہ پنجاب میں اس طرح کی تقریبات زیادہ ہوتی ہے جبکہ اس کے برعکس سندھ میں اس حوالے سے کوئی کام نہیں ہوتاتاہم پچھلے سال چودھویں سالانہ بین الاقوامی کتب میلے میں قمر زمان کائرہ نے خوداعتراف کیاتھا کہ ایسے کتب میلے پنجاب میں بھی نہیں ہوتے۔
وزیراعلیٰ سندھ کاکہناتھا کہ ہمارے ہاں اسکول اورکالجوں میں بچوں کوصرف ایک یا 2 کتب لے جانے کی اجازت ہوتی ہے جبکہ مغربی ممالک گیا تومشاہدہ کیا کہ وہاں طالبعلموں کوان کی مرضی کے مطابق متعدد کتابیں لے جانے کی اجازت ہوتی ہے۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








