لاپتا 17 افراد موت کی وادی میں کھوگئے؟ منیلا میں 9 منزلہ عمارت زمین بوس؛ جانیں تفصیل

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

فلپائن کے دارالحکومت منیلا کے قریب زیرِ تعمیر عمارت گرنے کے واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر تین ہوگئی ہے جبکہ حکام کے مطابق اب بھی 17 افراد لاپتا ہیں۔ یہ افسوسناک حادثہ اتوار کے روز پیش آیا تھا جب زیر تعمیر نو منزلہ عمارت اچانک زمین بوس ہوگئی اور اس کے ملبے نے قریب موجود ایک ہوٹل کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا جہاں ایک ملائیشین شہری ہلاک ہو گیا۔

حادثے کے بعد ملبے تلے دبے دو مزدوروں کو زندہ نکال لیا گیا تھا تاہم شدید زخمی ہونے کے باعث دونوں جانبر نہ ہو سکے۔ یہ واقعہ دارالحکومت منیلا کے شمال میں واقع شہر اینجلس میں پیش آیا۔

Image

Image

Image

علاقائی فائر بیورو کی ترجمان ماریا لیاہ سجیلی نے اے ایف پی کو بتایا کہ دونوں متاثرہ مزدوروں میں سے ایک کو زندہ نکال لیا گیا تھا لیکن اس کی حالت زیادہ خراب ہونے کے باعث ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود اسے بچایا نہ جا سکا۔

Image

Image

انہوں نے مزید بتایا کہ دوسرا مزدور رات تقریباً 3 بجے دل کا دورہ پڑنے سے دم توڑ گیا جبکہ وہ اس وقت تک ملبے میں پھنسا ہوا تھا اور ڈاکٹر فوری طبی امداد فراہم نہیں کر سکے۔

Image

حکام کے مطابق لاپتا افراد میں زیادہ تر تعمیراتی مزدور شامل ہیں جو حادثے کے وقت عمارت کے قریب سو رہے تھے۔ فائر حکام کا کہنا ہے کہ اب تک عمارت گرنے کی اصل وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔

Image

Image

The pulverized concrete and twisted steel of a collapsed nine-story building are seen on Sunday, May 24, in Barangay Balibago, Angeles City.

سرکاری اطلاعات کے مطابق تعمیراتی مقام پر تقریباً 70 افراد کام کرتے تھے تاہم ویک اینڈ ہونے کی وجہ سے بیشتر مزدور اپنے گھروں کو جا چکے تھے۔

55 سالہ الفریڈو البِس نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ عمارت سے تقریباً پانچ میٹر کے فاصلے پر مزدوروں کی بیرک میں سو رہے تھے کہ اچانک عمارت زمین بوس ہوگئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے دو کزن اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جو اپنے اہل خانہ کیلئے روزگار کمانے یہاں آئے تھے اور خدشہ ہے کہ وہ اب زندہ نہ ہوں۔

فائر بیورو کی ترجمان ماریا لیاہ سجیلی نے بتایا کہ کسی منہدم عمارت میں ریسکیو آپریشن انتہائی مشکل مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ امدادی کارکنوں کی معمولی حرکت بھی ملبے کو مزید سرکا سکتی ہے جس سے نیچے دبے افراد کے کچلے جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اچانک حرکتیں امدادی اہلکاروں کیلئے بھی جان لیوا ثابت ہوسکتی ہیں اسی لیے زیادہ تر ریسکیو کام ہاتھوں سے احتیاط کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔

Image

Image

حکام کے مطابق اب ریسکیو ٹیمیں تھرمل اسکینرز کی مدد سے ملبے کے نیچے زندگی کے آثار تلاش کریں گی۔ اگر مزید زندہ افراد نہ مل سکے تو بھاری مشینری اور کھدائی کرنے والے آلات استعمال کرکے ملبہ ہٹایا جائے گا اور لاشیں نکالی جائیں گی تاہم اس عمل کیلئے کوئی حتمی وقت نہیں بتایا گیا۔

Related Posts