مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا 172واں روز، معمولاتِ زندگی بدستور مفلوج

تازہ ترین

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا 172واں روز، معمولاتِ زندگی بدستور مفلوج
مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا 172واں روز، معمولاتِ زندگی بدستور مفلوج

مقبوضہ جموں و کشمیر میں تاریخِ انسانی کا بد ترین کرفیو کا آج 172واں روز ہے  جبکہ غیر انسانی پابندیوں کے دوران مظلوم کشمیریوں کو زندگی بچانے والی ادویات اور خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

کشمیر کی ہر گلی اور ہر علاقے میں مظلوم کشمیریوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد ہے جہاں مسلح بھارتی فوج کی طرف سے ظلم و تشدد، پکڑ دھکڑ اور سرچ آپریشن کے نام پر ریاستی دہشت گردی تاحال جاری ہے۔

جموں و کشمیر میں غاصب بھارت کی طرف سے عائد تکلیف دہ پابندیوں کے باعث معمولاتِ زندگی مسلسل مفلوج ہیں جبکہ بھارتی فوج نے مقبوضہ وادی کو دنیا کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا ہے۔

مودی سرکار نے انٹرنیٹ، ٹی وی نشریات اور موبائل فون پر عائد پابندی ہٹانے کے دعوے تو بہت کیے ، تاہم مظلوم کشمیری پابندیوں کے باعث آج تک دنیا سے کٹ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

حریت رہنماؤں کے ساتھ ساتھ بھارت نواز سیاسی قیادت کو بھی مودی حکومت کی طرف سے سنگین پابندیوں کا سامنا ہے جبکہ بھارتی فوج نے بڑی تعداد میں نوجوانوں، خواتین اور بچوں کو جیلوں میں بند کردیا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان تحریکِ انصاف کے سینئر مرکزی رہنما و سابق صوبائی وزیر عبدالعلیم خان نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی سفارتی کاوشوں سے پاک امریکا تعلقات میں مسئلہ کشمیر اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

 ٹوئٹر پرگزشتہ روز اپنے پیغام میں پی ٹی آئی رہنما عبدالعلیم خان نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلۂ کشمیر پر ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش اسی لیے کی کہ مسئلۂ کشمیر اہم ہے۔

مزید پڑھیں:  پاک امریکا تعلقات میں مسئلہ کشمیر اہم ہوگیا ہے۔علیم خان

Related Posts