لاہور: معروف شاعر اور دانشور احمد ندیم قاسمی کی 18ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔ ان کے لکھے ہوئے ڈرامے آج بھی عوام کے ذہنوں میں محفوظ ہیں، افسانے آج بھی پڑھے جارہے ہیں اور احمد ندیم قاسمی کو یاد کیا جارہا ہے۔
افسانہ نگار اور شاعر احمد ندیم قاسمی کی پیدائش خوشاب کے ایک گاؤں میں 20 نومبر 1916ء میں ہوئی جبکہ ان کا نام ترقی پسند شاعری اور تحریر و تقریر کی دنیا میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔احمد ندیم قاسمی نے جو لکھا امر ہوگیا اور جو کہہ دیا، اسے سر آنکھوں پر رکھا گیا۔
پاکستان ٹیلی ویژن پر ”قاسمی کہانی“ کے عنوان سے ایک ڈرامہ سیریز عوام میں بے حد مقبول رہی جس میں احمد ندیم قاسمی کے مختلف افسانوں کو حقیقت کا روپ دیا گیا اور یہ افسانے عوامی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے جس میں افسانہ نگاری کی خوبصورتی کا بہت دخل ہے۔
اپنی تخلیق و تدوین سے بھرپور کم و بیش 90 سال کی عمر پانے والے احمد ندیم قاسمی نے 50سے زائد کتب لکھ کر نثر اور شاعری دونوں اصناف میں اپنے مداحوں کیلئے ایک یادگار ذخیرہ چھوڑا ہے جس میں شاعری، افسانے اور دیگر شعری و نثری کاوشیں آج بھی عوام کا دل لبھا رہی ہیں۔
راوی کہتا ہے کہ شاعر و افسانہ نگار احمد ندیم قاسمی کے والد پیر غلام نبی مرحوم کے زیر سایہ احمد ندیم کی ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہوئی۔ 1920ء میں انگہ کی مسجد میں قرآنِ پاک کی تعلیم کا آغاز کیا اور یہیں سے احمد ندیم قاسمی کے علمی سفر کا آغاز ہوا۔
بدقسمتی سے احمد ندیم قاسمی کے بچپن میں ہی والد کا انتقال ہوگیا۔ چچا نے کیمبل پور بلا لیا جہاں مذہبی، عملی اور شاعرانہ ماحول نے احمد ندیم قاسمی کے ذہن کو شاعری کی طرف راغب کیا۔ کیمبل پور میں ہی تعلیم جاری رہی اور احمد ندیم قاسمی شاعری کی طرف بھی مائل ہوتے رہے۔
تعلیم کی بات کی جائے تو احمد ندیم قاسمی نے میٹرک گورنمنٹ ہائی اسکول شیخوپورہ سے اور بی اے صادق ایجرٹن کالج بہاولپور سے 1935ء میں کیا۔ لاہور میں سخت حالات کا سامنا کیا لیکن اختر شیرانی جیسے نامور شاعر سے ملاقات ہوئی جو ان کیلئے یادگار رہی۔
احمد ندیم قاسمی کا ماننا تھا کہ اختر شیرانی نے احمد ندیم قاسمی کے ساتھ مشفقانہ سلوک کیا جبکہ آگے چل کر احمد ندیم قاسمی کی ملاقات معروف ڈرامہ نگار امتیاز علی تاج سے ہوئی۔ یہاں پھول کی ادارت اور بچوں کیلئے نظمیں لکھنے کا موقع ملا اور احمد ندیم قاسمی نے ایک الگ پہچان بنالی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ احمد ندیم قاسمی کی ادبی سفر کی داستان طویل رہی اور اس دوران متعدد اعزازات بشمول آدم جی ادبی انعام، صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی اور ستارۂ امتیاز سمیت متعدد اعزازات احمد ندیم قاسمی نے اپنے نام کیے، جس سے بطور تخلیق کار احمد ندیم قاسمی کے قد کاٹھ کا پتہ چلتا ہے۔
زندگی کسی بھی شخص کا ہمیشہ ساتھ نہیں دیتی۔ آج سے 18سال قبل احمد ندیم قاسمی 10 جولائی 2006ء کے روز مختصر علالت کے بعد حرکتِ قلب بند ہونے کے باعث لگ بھگ 90 برس کی عمر میں انتقال کر گئے لیکن آپ کی شاعری، افسانے اور دیگر تخلیقات آج بھی زندہ ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








