انڈونیشیا میں افسوسناک واقعے میں 19 افراد جان کی بازی ہار گئے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ انڈونیشین میڈیا)

انڈونیشیا کے مغربی جاوا صوبے میں واقع چیربون (Cirebon) کے علاقے میں ایک کان میں چٹان گرنے کا خوفناک واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں کم از کم 19 افراد جاں بحق اور 8 افراد زخمی ہوئے جبکہ 6 افراد تاحال لاپتا ہیں۔

انڈونیشین ریسکیو ادارہ باسارناس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ جمعہ کے روز پیش آیا جس کے بعد سے ریسکیو ٹیمیں مسلسل متاثرہ علاقے میں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

انڈونیشین ریسکیو ادارے نے تصدیق کی ہے کہ ریسکیو آپریشن اتوار کے روز بھی جاری رہا اور رکاوٹوں کے باوجود کوششیں پوری شدت سے کی جا رہی ہیں۔ مقامی حکام اور رضاکار مل کر امدادی کاموں میں حصہ لے رہے ہیں تاہم وقت گزرنے کے ساتھ لاپتا افراد کے زندہ بچنے کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔

پولیس نے اس واقعے کے بعد دو افراد کو باقاعدہ ملزم نامزد کیا ہے، جن پر الزام ہے کہ وہ نہ صرف ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے بلکہ انہوں نے ورکرز کو مناسب حفاظتی سامان بھی فراہم نہیں کیا۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ کان میں کام کرنے والے مزدور غیر محفوظ حالات میں کام کر رہے تھے، اور موقع پر کسی قسم کا حفاظتی نظام موجود نہ تھا۔

انرجی و منرل ریسورسز کی وزارت نے حادثے کی مکمل تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نہ صرف اس واقعے کی وجوہات کا پتہ لگائے گی بلکہ علاقے میں مستقبل میں زمین کھسکنے کے خطرات کا بھی جائزہ لے گی۔

وزارت کے جیولوجیکل ایجنسی کے سربراہ نے کہا کہ “یہ علاقہ پہلے سے ہی لینڈ سلائیڈ کے لیے حساس ہے اور بارش کے بعد خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ کان کے کھدائی کے طریقے اور ڈھلوان کی شدت نے اس حادثے کو مزید مہلک بنا دیا۔

مغربی جاوا کے گورنر ڈیڈی مولیادی نے بھی اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں اعتراف کیا کہ یہ کان مکمل طور پر غیر محفوظ تھی اور یہاں حفاظتی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ورکرز کی جانوں کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کو روکا جا سکے۔

Related Posts