نئی دہلی: بھارتی علمائے کرام نے ہمسایہ ملک میں 2 مسلمان نوجوانوں کو وحشیانہ قتل اور جلا دینے کے جرم کو دہشت گردی قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے میوات میں 2 مسلمان نوجوانوں جنید اور ناصر کے وحشیانہ قتل کو انسانیت سوز دہشت گردی قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
عرب امارات کا مسجد، چرچ اور یہودی عبادتخانہ بنانے کا منصوبہ
جمعیت علمائے ہند کے صدر نے مقدمے کے ملزمان کے خلاف یو اے پی اے (انسدادِ دہشت گردی) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت میں اقلیت 2 لفظ بول دے تو دہشت گردی قرار دی جاتی ہے۔
صدر جے یو ایچ مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ مسلمان نوجوانوں کو قتل کرکے جلا دینے پر بھارتی حکومت نے معمولی دفعات عائد کیں جو حکومت کے دوغلے روئیے کی عکاسی ہے۔مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔
مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ مسلمان نوجوانوں کو قتل کرنے میں ملوث ملزموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور قصور وار پولیس افسران کے خلاف بھی انکوائری ہونی چاہئے۔ جاں بحق مسلمانوں کے اہلِ خانہ کو معاوضہ دیا جائے۔
دریں اثناء جمعیت علمائے ہند کے جنرل سیکریٹری مولانا حکیم قاسمی کی قیادت میں علمائے کرام کا وفد بھرت پور پہنچا اور متاثرہ خاندان سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ہر ممکن طور پر انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کروائی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








