وزیراعظم کا اسلام آباد پر لشکر کشی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو سما

اسلام آباد: وزیرِاعظم شہباز شریف نے اسلام آباد پر حملہ کرنے والے عناصر کے خلاف فوری قانونی کارروائی کا حکم دیا ہے۔

وزیرِاعظم کی زیرِصدارت ایک اجلاس میں انہیں حالیہ دھرنوں اور احتجاج کے دوران سرکاری املاک اور پولیس و رینجرز اہلکاروں پر حملوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ ملک کو دیوالیہ کرنے اور اپنی حکومت بچانے کی کوشش میں تاریخی کرپشن کرنے والے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ قانونی راستہ اپنانے کے بجائے بار بار اسلام آباد پر یلغار کرکے ملک میں انتشار پھیلانے کی کوشش کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان حملوں کے دوران کئی سیکیورٹی اہلکار زخمی اور شہید ہوئے۔ شہباز شریف نے سوال اٹھایا کہ ایسے لوگ جو تباہی اور انتشار پھیلا رہے ہیں، کیسے انقلابی ہو سکتے ہیں؟ انہوں نے فوری قانونی چارہ جوئی کی ہدایت دیتے ہوئے استغاثہ کے نظام میں بہتری لانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ ان فسادات کے خاتمے کے بعد اسٹاک ایکسچینج نے ایک لاکھ پوائنٹس عبور کیے، تاہم اس انتشار سے ملک کو اربوں روپے کا نقصان ہوا، جس کے ذمہ دار یہی شرپسند عناصر ہیں۔ انہوں نے شرپسندوں کی فوری شناخت اور سزا دینے کا مطالبہ کیا اور اپنے فرائض کی انجام دہی میں شہید ہونے والے اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

انہوں نے مزید ہدایت دی کہ ذاتی مقاصد کے لیے کسی بھی شہر پر حملے کو روکنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی جائے۔ حکومت نے پہلے بھی نام نہاد پرامن دھرنے کے مسلح افراد کو انتشار سے روکنے میں تحمل کا مظاہرہ کیا، لیکن آئندہ کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کیا جائے۔

شہباز شریف نے عوام میں اشتعال اور بے یقینی پیدا کرنے والے عناصر کو قانون کے دائرے میں لانے کی ہدایت کی اور ملک بھر میں اینٹی رائٹس فورس قائم کرنے کا اعلان کیا۔ اس فورس کو بین الاقوامی معیار کی تربیت اور جدید سازوسامان سے لیس کیا جائے گا، تاکہ سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے والوں اور مسلح افراد کے خلاف مؤثر کارروائی کی جا سکے۔

Related Posts