ایک حیران کن واقعے میں بھارت کے رہائشی 25 سالہ روہتاش کمار نے آخری رسومات کے دوران چتا پر ہوش میں آ کر سانس لینا شروع کر دیا، جب چتا کو جلانے کی تیاریاں کی جا رہی تھیں۔
طبی حکام کے مطابق یہ واقعہ ایک ڈاکٹر کی جانب سے پوسٹ مارٹم نہ کرنے کے باعث پیش آیا۔روہتاش جو بولنے اور سننے کی معذوری کا شکار تھا، اچانک بیمار ہو گیا اور جمعرات کے روز ریاست راجستھان کے ضلع جھنجھنو کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اسے مرگی کا دورہ پڑا، اور ڈاکٹروں نے اسپتال پہنچتے ہی اسے مردہ قرار دے دیا۔
پوسٹ مارٹم کے بغیر موت کی وجہ جاننے کے بجائے ڈاکٹروں نے لاش کو براہ راست مردہ خانے اور بعد ازاں آخری رسومات کے لیے بھیج دیا۔ اسپتال کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ڈی سنگھ نے تصدیق کی کہ ایک ڈاکٹر نے پوسٹ مارٹم کیے بغیر ہی رپورٹ تیار کی اور لاش کو جلانے کی اجازت دے دی۔
چتا کو جلانے سے چند لمحے قبل روہتاش کے جسم میں حرکت اور سانس لینے کے آثار نظر آئے۔ اسے فوراً اسپتال واپس لے جایا گیا لیکن تمام کوششوں کے باوجود جمعہ کے روز اس کی موت کی تصدیق کر دی گئی۔اس واقعے کے بعد اسپتال نے کیس میں ملوث تین ڈاکٹروں کو معطل کر دیا ہے، اور پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








