کراچی: وزارت سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل حکومت پاکستان، اسلام آباد کے ذیلی محکمہ ایمپلائیز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن EOBI میں طویل عرصہ بعد ملازمین کو ترقیاں دی گئی ہیں، چیئرمین شکیل احمد منگنیجو کی دلچسپی اور ای او بی آئی ایمپلائز فیڈریشن آف پاکستان سی بی اے کی بدولت بڑی تعداد میں ملازمین کو ترقیاں دی گئی ہیں۔ لیکن ادارہ کے ملازم سید مبشر رضی جعفری کو ایک بار پھر ان کی جائز ترقی سے محروم کردیا گیا ہے۔
اس سلسلہ میں 28جنوری کو ایچ آر ڈپارٹمنٹ ہیڈ آفس نے ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈپارٹمنٹ شازیہ رضوی کی جانب سے آفس آرڈر نمبر 23,33,34,35اور 36 جاری کئے ہیں۔ جن میں آفس آرڈر نمبر 32 کے تحت چھ ایگزیکٹیو افسران کو ترقی دے کر اسسٹنٹ ڈائریکٹر آپریشنز مقرر کیا گیا ہے۔جبکہ آفس آرڈر نمبر 33 کے تحت مختار علی ایگزیکٹیو افسر ریجنل آفس کورنگی کو ترقی دے کر اسسٹنٹ ڈائریکٹر آپریشنز بنا دیا گیا ہے واضح رہے کہ مختار علی 1990 سے ای او بی آئی میں ملازم ہیں لیکن سابق چیئرمین اظہر حمید اور طاہر صدیق نے چند برس قبل انہیں اپنی سینیارٹی کے لئے آواز بلند کرنے پر جائز ترقی سے محروم کر دیا تھا۔

آفس آرڈر نمبر 34 کے تحت ادارہ کے سات سپرنٹنڈنٹ کو ترقی دے کر ایگزیکٹیو افسر مقرر کیا گیا ہے آفس آرڈر نمبر 35 کے تحت چار پرسنل اسسٹنٹ کو ترقی دیتے ہوئے پرائیویٹ سیکریٹری بنا دیا گیا ہے،آفس آرڈر نمبر 36 کے تحت ادارہ میں سب سے زیادہ ترقیاں دی گئی ہیں۔ جن میں ترقی پانے والے 38 سینئر اسسٹنٹ، اسسٹنٹ اور نائب قاصد کے عہدہ کے ملازمین شامل ہیں۔

آفس آرڈر کے مطابق صوبہ پنجاب کے مختلف عہدوں کے 13 ملازمین کو اگلے عہدوں پر صوبہ سندھ کے مختلف عہدوں کے 19 ملازمین کو اگلے عہدوں صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف عہدوں کے پانچ ملازمین کو اگلے عہدوں پر اور صوبہ بلوچستان کے ایک نائب قاصد کو ترقی دے کر قاصد بنایا گیا ہے۔

ڈپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کی سفارشات پر ادارہ کے سینئر اسٹاف ملازمین سید مبشر رضی جعفری سینئر اسسٹنٹ لاء ڈپارٹمنٹ ہیڈ آفس کراچی اور جنرل سیکریٹری ای او بی آئی ایمپلائز فیڈریشن آف پاکستان سی بی اے اور سیف الدین سینئر اسسٹنٹ ریجنل آفس بن قاسم کراچی کی ترقیاں لازمی ٹریننگ کورس میں عدم شرکت اور سال 2018,19,20 اور 21 کی سالانہ خفیہ رپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث ترقیاں موخر کردی گئی ہیں۔

علی حسین اسسٹنٹ بی اینڈ سی III اسلام آباد کی سنگین بدعنوانیوں کے الزامات کے تحت ملازمت سے معطلی اور تادیبی کارروائی کے باعث ترقی موخر کر دی گئی ہے۔علی حسین نامی ملازم 2012 میں ریجنل آفس ایبٹ آباد میں تعیناتی کے دوران غیر قانونی طور پر کروڑوں روپے کے ای او بی آئی کے کنٹری بیوشن کو اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں جمع کرانے کے سنگین الزامات میں ملوث ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ علی حسین ای او بی آئی کے پہلے چیئرمین سید عمران شاہ کے قریبی عزیز ہیں۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








