بھارتی شہر حیدرآباد میں پولیس حکام نے ایک قبرستان میں چھاپہ مار کر قبروں میں چھپائے گئے سیکڑوں ایل پی جی سلینڈر بر آمد کرلیے جبکہ اس دوران حکام نے 10 افراد کو ذخیرہ اندوزی اور مہنگی گیس فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔
بھارتی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایران میں جاری جنگ کے اثرات کی وجہ سے بھارت میں ایل پی جی کی قلت پیدا ہو گئی ہے اور اسے بلیک مارکیٹ میں زیادہ قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے۔
حکام نے بتایا کہ ایران میں کشیدگی کے سبب شپنگ متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں گیس کی سپلائی کم ہوئی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
بھارت کی وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس کے سینئر عہدیدار سجاتا شرما کے مطابق صرف گزشتہ روز ملک بھر میں تقریباً 2,600 چھاپے مارے گئے اور تقریباً 700 ایل پی جی سلنڈر ضبط کیے گئے۔
سجاتا شرما نے مزید بتایا کہ حیدرآباد میں ایک قبرستان کے اندر سے تقریباً 400 سلنڈر ایک ہی مقام سے برآمد ہوئے اور پولیس نے اس واقعے میں دس افراد کو حراست میں لے لیا۔
پولیس کے مطابق ملزمان کمرشل اور گھریلو سلنڈرز کو تین گنا زیادہ قیمت پر فروخت کر رہے تھے۔ ایک کمرشل سلنڈر جس کی اصل قیمت تقریباً 2,100 بھارتی روپے ہے اسے چھ ہزار روپے تک بیچا جا رہا تھا۔ ضبط کیے گئے سلنڈرز اور استعمال شدہ گاڑیوں کی مجموعی مالیت تقریباً 22 لاکھ بھارتی روپے بنتی ہے۔
واضح رہے کہ بھارت دنیا میں ایل پی جی کا دوسرا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے اور اپنی تقریباً 60 فیصد ضرورت درآمد شدہ ایل پی جی سے پوری کرتا ہے جو زیادہ تر مشرقِ وسطیٰ سے آتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








