زمین سے 42 کروڑ 50 لاکھ نوری سال کی دوری پر این جی سی 2008 کی دریافت

تازہ ترین

تازہ ترین

زمین سے 42 کروڑ 50 لاکھ نوری سال کی دوری پر این جی سی 2008 کی دریافت
زمین سے 42 کروڑ 50 لاکھ نوری سال کی دوری پر این جی سی 2008 کی دریافت

این جی سی 2008ء  نامی کہکشاں ہماری کہکشاں ملکی وے اور زمین سے 42 کروڑ 50 لاکھ  نوری سال کی دوری پر موجود ہے جسے 1834ء میں جان ہرشل نامی ماہرِ فلکیات  نے دریافت کیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اِس کہکشاں کا ذکر کرتے ہوئے ماہرِ فلکیات کرس ہیڈ فیلڈ نے کہا کہ شاید ناسا کی ہبل دور بین نے ہمیں جو عظیم ترین تحفہ دیا ہے، وہ ہماری کائنات کے باقی ماندہ حصے کی تصاویر ہیں۔

ماہرِ فلکیات کرس فیلڈ نے بتایا کہ این جی سی 2008نامی یہ کہکشاں اسپائرل گلیکسی کے زمرے میں آتی ہے جو ملکی وے نامی ہماری کہکشاں سے 42 کروڑ 50 لاکھ  نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔

کائنات اتنی بڑی ہے کہ اس کی مختلف کہکشاؤں، ستاروں اور سیاروں کے درمیان فاصلوں کو اعداد میں بتایا نہیں جاسکتا۔ یہ اعداد اتنے ہندسوں پر مشتمل ہوتے ہیں کہ انہیں پڑھنا اور لکھنا بھی انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

یہ مشکل حل کرنے کے لیے ماہرینِ فلکیات نے کائنات کی تیز رفتار ترین چیز یعنی روشنی کا سہارا لیا۔ روشنی جو فاصلہ ایک سال میں طے کرتی ہے، اسے ایک نوری سال کہتے ہیں۔

اگر ہم این جی سی 2008 نامی اِس کہکشاں کے لیے روشنی کی رفتار سے سفر شروع کریں جو تقریباً 3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے تو ہمیں اس کہکشاں تک پہنچنے کے لیے 42 کروڑ 50 لاکھ سال لگیں گے۔

اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ہبل کی دوربین سے بھی ہم اِس کہکشاں کی جو تصاویر لے رہے ہیں وہ 42 کروڑ 50 لاکھ سال پرانی ہیں اور عین ممکن ہے کہ اس دوران اس کہکشاں میں بے انتہا تبدیلیاں رونما ہوچکی ہوں۔ 

یوں سمجھ لیجئے کہ ہم جو کچھ دیکھتے ہیں وہ ایک تصویر ہے۔ روشنی کسی چیز سے ٹکرا کر اس کی تصویر کو جتنی دیر میں ہم تک پہنچاتی ہے، اتنی ہی پرانی وہ تصویر ہوتی ہے۔ یہی اس کہکشاں کی حقیقت ہے۔ 

 

Related Posts