شہادت کے 45 سال، ذوالفقار علی بھٹو کی کونسی خدمات یادگار رہیں گی؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو: سماء ٹی وی)

 لاڑکانہ میں جنوری 1928ء میں جنم لینے والے ذوالفقار علی بھٹوکو ملک کی تاریخ کا مقبول ترین وزیرِ اعظم ہونے کا اعزاز حاصل ہے کیونکہ وہ نہ صرف معاملہ فہم سیاستدان بلکہ بہادر حکمران بھی تھے۔

سن 1979ء میں 4 اپریل کے روز ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر چڑھا کر ان کی زندگی کا چراغ گل کردیا گیا اور ذوالفقار علی بھٹو عدالت سے سزائے موت پا کر بھی شہید کہلائے اور آج ان کی 45ویں برسی منائی جارہی ہے۔ آئیے ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت اور سیاست کے مختلف پہلوؤں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

ذوالفقار بھٹو کی ابتدائی زندگی 

جیسا کہ ذکر کیا گیا، ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928ء کے روز لاڑکانہ میں پیدا ہوئے۔ان کے والد سرشاہنواز بھٹو جوناگڑھ کی مسلم ریاست میں دیوان تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو 6 سال کی عمر میں کراچی بشپ ہائی اسکول میں داخل کرایا گیا۔ 1937ء میں بھٹو خاندان ممبئی منتقل ہوا اور ذوالفقار علی بھٹو کو کینڈرل ہائی اسکول میں داخلہ ملا جو اہم پیشرفت تھی۔

جس سال پاکستان قائم ہوا، یعنی 1947ء کے آغاز میں ذوالفقار علی بھٹو اعلیٰ تعلیم کیلئے لاس اینجلس کی یونیورسٹی میں داخل ہوئے۔ 1949ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے برکلے یونیورسٹی آف سٹی سے آنرز کی ڈگری سیاسیات میں حاصل کی جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جواں سال ذوالفقار علی بھٹو مستقبل میں کس میدان میں اپنا مستقبل دیکھ رہے تھے۔

عملی زندگی اور وطن واپسی

پاکستان میں عملی زندگی کا آغاز کرنے کیلئے ذوالفقار علی بھٹو وطن واپس لوٹے تو درس و تدریس کو اپنا پیشہ بنا لیا۔ ذوالفقار علی بھٹو قانون پڑھایا کرتے تھے۔ اس دوران انہوں نے کھیل، تعلیم، تاریخ، فلسفہ، سیاست اور مشہورومعروف شخصیات پر لکھی گئی کتابوں کا بھی مطالعہ کیا اور بطور معاملہ فہم شخصیت ان کی زندگی سے بہت کچھ سیکھا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مطالعے کی عادت سے شہید ذوالفقار علی بھٹو ایک انسانیت دوست شخصیت بن گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی بیوی شیریں امیر بیگم سے کوئی اولاد نہیں ہوئی تاہم دوسری بیوی نصرت بھٹو کے بطن سے 4 بچے پیدا ہوئے جن کے نام بے نظیر بھٹو، مرتضیٰ بھٹو، صنم بھٹو اور شاہنواز بھٹو ہیں۔

سیاسی زندگی  اور شخصیت 

پیپلز پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو جیسا سیاستدان صدیوں میں جنم لیتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 16 دسمبر 1971ء کو نامساعد حالات میں ملک کی باگ ڈور سنبھالی۔ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد بچہ کھچا ملک صرف 6 سال میں مستحکم اور مضبوط بن گیا۔ بھٹو اپنے فرائض ہمت اور بلند حوصلگی سے سرانجام دیتے رہے۔

کہا جاتا ہے کہ کسی بھی انسان کی قابلیت کا اندازہ ڈگریوں سے نہیں لگایا جاسکتا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ثابت کیا کہ وہ خارجہ امور کے بہترین ماہر تھے جو صرف 30 برس کی عمر میں وزیرِ خارجہ بن گئے۔ کہا جاتا ہے کہ آج تک پاکستان کو خارجہ امور میں بھٹو کی ٹکر کا کوئی شخص دستیاب نہیں ہوسکا جو مسئلۂ کشمیر حل کرانے کے بہت قریب پہنچ گیا تھا۔

یہ بھی اظہر من الشمس ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو ایک قادر الکلام خطیب، بے مثال رہنما اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہر تھے۔ لاکھوں انسانوں کے اجتماع سے گھنٹوں بڑی سنجیدگی، معاملہ فہمی اور بے ساختگی سے خطاب کرتے تھے۔ متعدد بار پاکستان کی نمائندگی کی اور اقوامِ عالم کو اپنے فکر و تدبر اور معاملہ فہمی سے حیران بھی کیا۔

 پاکستان کے دنیا کے دیگر ممالک سے روابط اور خارجہ پالیسی کو جس طرح ذوالفقار علی بھٹو نے دیکھا، کوئی اور سیاسی رہنما نہ دیکھ سکا۔ چین، ایران، انڈونیشیاء اور عرب ممالک سے بے مثال روابط بھٹو دور میں قائم کیے گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے امریکا اور چین کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ پاک چین دوستی اور مسلم امت کی یکجہتی پر بھی قابلِ قدر کام کیا۔

ترقیاتی منصوبے

شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ملکی ترقی کے بہت سے منصوبے شروع اور مکمل کیے گئے۔ پاکستان کا جوہری پروگرام، اسٹیل ملز، معیشت کی بحالی، تعلیمی اداروں کا جال، میڈیکل کالجز، انگریزی خطابات کا خاتمہ اور زرعی اصلاحات کی گئیں جنہیں اہم اقدامات سمجھا جاتا ہے۔

بھٹو صاحب کے دور میں محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا، عوام میں سیاسی شعور بیدار ہوا، افرادی قوت بیرونِ ملک برآمد کی گئی۔ ملک کو ایک متفقہ آئین 1973ء دیا گیا اور قادیانی آئینِ پاکستان کی رو سے غیر مسلم قرار دے دئیے گئے جسے مسلم فکر رکھنے والے رہنماؤں نے اہم فیصلہ قرار دیا۔

قادیانیت کی بیخ کنی کیلئے ختمِ نبوت ﷺ کا اقرار بھٹو دور میں ہر کلیدی عہدے کے حلف نامے میں شامل ہوا، شناختی کارڈ جاری کیا گیا، ایسے ہی منصوبوں کی بدولت ذوالفقار علی بھٹو نے عوام میں بے مثال شہرت پائی اور آج بھی انہیں یاد کیا جاتا ہے۔

عسکری قیادت سے اختلافات

بطور صدر اپنا عہدہ سنبھالتے ہی ذوالفقار علی بھٹو نے یحییٰ خان کو انہی کے مکان میں نظر بند کرتے ہوئے جنرل گل حسن کو چیف آف آرمی اسٹاف بنا دیا۔ بھٹو پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے تینوں مسلح افواج کے 44سینئر افسران کو پیٹ باہر آنے کا کہہ کر برخاست کردیا تھا، جو سابق وزیراعظم کے ڈسپلن کی عمدہ مثال کہی جاسکتی ہے۔

قبل ازیں مشرقی پاکستان میں شکست کھانے کے بعد پاک فوج کے حوصلے پست تھے اور ذوالفقار علی بھٹو پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے فوج کے پست حوصلوں کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی مرضی سے مختلف ایسے احکامات صادر کیے جو جمہوریت کی جگہ آمریت کی نشاندہی کرتے تھے، تاہم ایک سربراہِ مملکت کو بعض سخت فیصلے ضرور صادر کرنے پڑتے ہیں جو وقت کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔

جنرل ضیاء الحق سے اختلافات

بطور آرمی چیف جب جنرل ٹکا خان کی مدتِ ملازمت ختم ہوئی تو انہوں نے نئے آرمی چیف کیلئے 7 افراد کی فہرست بھجوائی جس میں جنرل ضیاء الحق شامل نہیں تھے کیونکہ جنرل ضیاء نئے نئے لیفٹیننٹ جنرل بنے تھے، لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں آرمی چیف بنا دیا۔

ماضی میں سامنے آنے والی بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی آؤ بھگت اور ہاں میں ہاں ملانے کے اعتبار سے ہر ممکن کسر پوری کی تھی اور بعض تجزیہ کاروں کے بیان کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو کسی حد تک تعریف پسند اور انانیت کے اسیر حکمران تھے، سو یہ حربہ کامیاب رہا۔

آرمی چیف بننے کیلئے جنرل ضیاء الحق نے مبینہ طور پر کئی اہم اقدامات اٹھائے۔ مثال کے طور پر معروف مصنف اوون بینٹ جونز کے مطابق جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو کئی بار تلوار پیش کی بلکہ ایک بار انہیں آرمرڈ کور کا تنخواہ نہ لینے والا چیف کمانڈر تک قرار دیا اور ان کیلئے فوج کی وردی بھی سلوائی جو فوج کے کسی بھی اعلیٰ افسر کیلئے حیران کن باتیں تھیں۔

پھانسی کا فیصلہ

بطور وزیراعظم پاکستان  ذوالفقار علی  بھٹو نے 14 اگست 1973ء کو حلف اٹھایا۔ 1977ء کے انتخابات میں دھاندلی کے باعث ملک خانہ جنگی کی سی کیفیت کا شکار تھا اور یہ وہ حساس صورتحال تھی جس کا فائدہ اٹھایا گیا۔

وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے لگائے گئے آرمی چیف جنرل ضیاء الحق نے اچانک مارشل لاء نافذ کردیا۔ ستمبر 1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو نواب محمد احمد خان کے قتل کی سازش کے الزام میں گرفتار ہوئے۔ عدالت نے بھٹو کو سزائے موت سنائی اور رحم کی اپیل تک مسترد کردی گئی جو ملکی تاریخ میں انتہائی تشویشناک مرحلہ تھا۔

بعد ازاں پھانسی کی سزا پانے والے ذوالفقار علی بھٹو کی بہن شہربانو امتیاز نے صدر جنرل ضیاء الحق سے رحم کی اپیل کی جس کے جواب میں یکم اپریل 1979ء کو جنرل ضیاء نے سرخ روشنائی سے 3 الفاظ لکھ دئیے جو انکار کے مساوی تھے۔

جواب کے طور پر آرمی چیف جنرل ضیاء الحق نے لکھا کہ پٹیشن اِز ریجیکٹیڈ یعنی اپیل مسترد کی جاتی ہے جس کے بعد 4 اپریل 1979ء کو ملک کے مقبول ترین وزیرِ اعظم کو پھانسی دے دی گئی، آج بھی ذوالفقار علی بھٹو کی خدمات کو یاد کیا جارہا ہے۔

Related Posts