خیبر پختونخوا کے ضلع کرم کے علاقے لوئر کرم میں مسافر گاڑی پر مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں چھ افراد جاں بحق ہوگئے۔
پولیس کے مطابق بدھ کے روز نامعلوم حملہ آوروں نے اس وقت گاڑی کو نشانہ بنایا جب وہ علاقے سے گزر رہی تھی۔ جاں بحق افراد کی لاشوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے اس واقعے کی تفتیش کر رہے ہیں تاکہ ملزمان کو شناخت کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب چند ہفتے قبل لوئر کرم اور صدہ کے قبائلی عمائدین نے ایک سالہ امن معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
جولائی میں فرنٹیئر کور قلعہ صدہ میں منعقدہ جرگہ میں سنی اور توری بنگش قبائل کے نمائندوں نے ضلعی حکام اور سیکورٹی افسران کے ساتھ کوہاٹ معاہدے کے تحت اس صلح نامے کو حتمی شکل دی تھی۔
ڈپٹی کمشنر اشفاق خان نے اس معاہدے کو علاقے کے استحکام کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا تھا اور اس کامیابی کو قبائلی عمائدین کے تعاون اور سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کا نتیجہ بتایا تھا تاہم اس تازہ واقعے نے ایک بار پھر خطے کے پرامن مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








