اسلام آباد: ہر پاکستانی شہری کو سوگوار کردینے والے سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد 6 سال کا عرصہ بیت گیا، ملکی تاریخ کی بد ترین دہشت گردی کے نتیجے میں 132 بچوں سمیت قوم کے 150 سپوت شہید ہو گئے تھے۔
سانحہ آرمی پبلک اسکول ملکی تاریخ کا وہ بد ترین واقعہ ہے جس کے دوران پاکستانی قوم کے دشمن دہشت گردوں نے معصوم بچوں کو اپنا نشانہ بنایا۔ پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں نے 16 دسمبر 2014 کے روز حملہ کیا تھا۔
آرمی پبلک اسکول سانحے کے بعد پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور فیصلہ کن کارروائیاں شروع کیں۔ 6 سال قبل 16 دسمبر کی صبح 11 بجے کے قریب دہشت گرد آرمی پبلک اسکول میں داخل ہوئے تھے۔
دہشت گردوں نے معصوم بچوں پر اندھا دھند گولیاں برسائیں، معصوم بچوں اور اساتذہ کو سمیت 150 کے قریب افراد کو شہید کیا جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے اسکول پہنچ کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی شروع کی۔
ہر سال 16 دسمبر کے روز پاکستانی قوم سانحۂ آرمی پبلک اسکول کی یاد میں اے پی ایس شہداء کو یاد کرتی ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں دہشت گردوں کی طرف سے بچوں کو نشانہ بنانے کے عمل کی بھرپور مذمت کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: اے پی ایس سانحہ: 2014ء میں دہشت گرد حملے سے آج کی پھانسی تک
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








