بھارت کے 600 وکلاءکا چیف جسٹس کو خط، عدلیہ کے رویے پر اظہارِ تشویش

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو: انڈیا ٹوڈے)

نئی دہلی: بھارت کے 600 وکلاء نے چیف جسٹس آف اندیا ڈی وائی چندر چوڑ کو خط لکھ کر بی جے پی حکومت کے دوران عدلیہ کے رویے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بھارتی میڈیا (نیوز18) کی ایک رپورٹ کے مطابق سینئر ایڈووکیٹ ہریش سالوے سمیت بھارت کے 600وکلاء نے بھارتی چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کو خط لکھ کر عدلیہ پر اثر انداز ہونے والے منفی پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ خط لکھنے والوں میں منن کمار مشرا، آدیش اگروال اور چیتن متل جیسے چوٹی کے وکیل شامل ہیں۔

میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خط بھارتی عدلیہ کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کا ارادہ کرنے والے عناصر کے اقدامات کے خلاف شدید تشویش کا اظہار ہے جو عدالتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کیلئے عدلیہ پر دباؤ ڈالتا ہے، خصوصاً سیاسی شخصیات اور بدعنوانی کے الزامات کے مقدمات کو جمہوریت کیلئے خطرہ قرار دیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خط میں بھارتی وکلاء نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سیاسی شخصیات اور بدعنوانی کے مقدمات جیسے اقدامات بھارت کے جمہوری انفراسٹرکچر اور عدل و انصاف پر عوامی اعتماد کیلئے کسی اہم خطرے سے کم نہیں۔ نیوز 18 کا کہنا ہے کہ وکلاء نے بینچ فکسنگ کے علاوہ عدلیہ پر لاقانونیت کے راج جیسے الزامات بھی لگائے۔

خط میں عدالتی تقرریوں اور فیصلوں کو متاثر کرنے کیلئے خفیہ ہتھکنڈوں کے استعمال اور غلط معلومات پھیلانے جیسے ہتھکنڈوں کے خلاف بھی تشویش کا اظہار کیا۔ بار کے سینئر اراکین نے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ عدلیہ کی سالمیت برقرار رکھنے کیلئے مفاد پرست عناصر کے حملوں کے خلاف اقدامات اٹھائیں۔

Related Posts