جنوبی فلپائن کے ساحلی علاقوں میں جمعے کی صبح زلزلے کے طاقتور جھٹکوں نے خوف و ہراس پھیلا دیا۔
فلپائن کے محکمہ ارضیات کے مطابق زلزلے کی شدت 7اعشاریہ 5 ریکارڈ کی گئی، جو منائے کے قریب ڈیواؤ اورینٹل کے ساحلی پانیوں میں آیا۔
اس زلزلے کے بعد فلپائن سمیت کئی قریبی ممالک میں سونامی کی وارننگ جاری کر دی گئی اور ساحلی علاقوں کے مکینوں کو فوراً محفوظ اور بلند مقامات کی جانب منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی۔
محکمہ فلپائن ووکینولوجی اور سیسمولوجی (فیوولکس) نے ابتدائی طور پر زلزلے کی شدت 7اعشاریہ 6 بتائی تھی، تاہم بعد میں اسے 7اعشاریہ 5 کر دیا گیا۔
زلزلے کی گہرائی 20 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔ ادارے نے خبردار کیا کہ زلزلے کے نتیجے میں آفٹر شاکس اور عمارتوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
امریکی سونامی وارننگ سسٹم نے بھی خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے کہا کہ زلزلے کے مرکز سے 300 کلومیٹر کے دائرے میں ساحلی علاقوں پر خطرناک لہریں اٹھ سکتی ہیں۔
فلپائن کے صدر فرڈیننڈ مارکوس جونیئر نے قوم کو یقین دلایا کہ حکومت زمینی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے اور امدادی ٹیموں کو حالات محفوظ ہوتے ہی متاثرہ علاقوں میں روانہ کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں تاکہ ہر ضرورت مند تک مدد پہنچ سکے۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق زلزلے کے دوران لوگ خوف کے باعث گھروں سے باہر نکل آئے جبکہ ڈیواؤ اورینٹل کے گورنر ایڈون جوباہیب نے بتایا کہ متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جھٹکے انتہائی طاقتور تھے، لوگ گھبرا گئے اور سڑکوں پر نکل آئے۔
فیولکس نے وسطی اور جنوبی فلپائن کے ساحلی قصبوں کے رہائشیوں کو خبردار کیا کہ وہ فوری طور پر بلند علاقوں کی طرف منتقل ہوں کیونکہ سونامی لہریں ایک میٹر یا اس سے زیادہ اونچائی تک پہنچ سکتی ہیں۔
بحرالکاہل سونامی وارننگ سینٹر کے مطابق فلپائن کے ساحلی علاقوں میں تین میٹر تک اونچی لہریں پیدا ہونے کا امکان ہے۔
یہ زلزلہ اس وقت آیا ہے جب دو ہفتے قبل فلپائن کے جزیرے سیبو میں ایک اور زلزلے میں 72 افراد جاں بحق ہوئے تھے، جس کی شدت 6اعشاریہ 9 ریکارڈ کی گئی تھی۔ فلپائن بحرالکاہل کے مشہور “رِنگ آف فائر پر واقع ہے، جہاں ہر سال 800 سے زائد زلزلے آتے ہیں۔
انڈونیشیا کے شمالی سولاویسی اور پاپوا علاقوں کے لیے بھی سونامی وارننگ جاری کی گئی ہے جبکہ بحرالکاہل کے جزائر پالاؤ کے ساحلی علاقوں میں بھی ایک میٹر تک اونچی لہروں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








