دو ہزار کی دہائی میں شائنی آہوجا، ریمی سین اور ادے چوپڑا جیسے بالی ووڈ اداکاروں نے فلم انڈسٹری میں نمایاں فنکاروں کے طور پر نام پیدا کیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یہ فنکار نہ صرف مرکزی کرداروں میں دکھائی دیے بلکہ ان کے گانے اور اسٹائل بھی نوجوانوں میں خاصے مقبول رہے، جس کے باعث ان کی شہرت دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرتی نظر آئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق وقت کے ساتھ ان فنکاروں کا کیریئر ابتدائی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔ بعض اداکاروں کو تسلسل کے ساتھ کام نہیں ملا جبکہ کچھ نے خود ہی شوبز انڈسٹری سے دوری اختیار کر لی۔ مثال کے طور پر ریمی سین نے فلمی دنیا چھوڑ کر دیگر شعبوں کا رخ کیا، جبکہ ادے چوپڑا نے اداکاری سے ہٹ کر پروڈکشن اور بین الاقوامی منصوبوں پر توجہ مرکوز کر لی۔
شائنی آہوجا نے “ہزاروں خواہشیں ایسی” اور “گینگسٹر” جیسی فلموں میں اپنی اداکاری کے ذریعے پہچان بنائی، تاہم قانونی معاملات نے ان کے کیریئر کو شدید نقصان پہنچایا۔
سال 2009 میں ان پر ان کے گھر میں کام کرنے والی خاتون کی جانب سے سنگین الزامات عائد کیے گئے، جس کے بعد مقدمہ درج ہوا اور یہ تنازع ان کے کیریئر کے زوال کا سبب بن گیا۔
ریمی سین کو فلمی دنیا میں بڑی پہچان پریہ درشن کی کامیاب فلم “ہنگامہ” (2003) سے ملی۔ اس کے بعد وہ “دھوم” (2004)، “پھر ہیرا پھیری” (2006) اور “گول مال: فن ان لمیٹڈ” (2006) سمیت کئی فلموں میں نظر آئیں، تاہم انہوں نے بتدریج فلموں میں کام کم کر دیا۔
بعد ازاں انہوں نے شوبز سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے نجی زندگی کو ترجیح دی اور بیرونِ ملک منتقل ہو کر رئیل اسٹیٹ کے شعبے سے وابستہ ہو گئیں۔
ادے چوپڑا، جو “دھوم” سیریز میں علی کے کردار سے مشہور ہوئے، ماضی میں یش راج فلمز کے نمایاں چہروں میں شمار ہوتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ انہوں نے اداکاری ترک کر کے پروڈکشن اور بین الاقوامی منصوبوں پر توجہ دینا شروع کر دی۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ادے چوپڑا اب زیادہ تر میڈیا کی نظروں سے دور رہتے ہیں اور کم ہی عوامی سطح پر دکھائی دیتے ہیں۔
’’میں ہوں نا‘‘ سے شہرت حاصل کرنے والے زاید خان بھی طویل عرصے تک فلمی دنیا میں اپنی جگہ برقرار نہ رکھ سکے۔ وہ آہستہ آہستہ مرکزی دھارے کی فلموں سے دور ہو گئے اور اب کاروبار کے ساتھ ساتھ محدود ڈیجیٹل منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔
اگرچہ اداکار زاید خان نے واپسی کے اشارے دیے ہیں، تاہم تاحال کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
تشار کپور نے “گول مال” جیسی کامیاب کامیڈی فلموں کے ذریعے اپنی پہچان بنائی، لیکن وقت کے ساتھ ان کی اسکرین موجودگی کم ہوتی گئی۔
اس وقت تشار کپور اپنے بینر “تشار انٹرٹینمنٹ ہاؤس” کے تحت فلم سازی اور کاروباری سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جس کا آغاز 2020 کی فلم “لکشمی” سے ہوا۔
“محبتیں” اور “زہر” سے پہچانی جانے والی شمیتا شیٹھی نے بھی رفتہ رفتہ فلموں سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ شلپا شیٹھی کی بہن ہونے کے باوجود وہ مرکزی دھارے میں مستقل جگہ نہ بنا سکیں، تاہم انہوں نے “بگ باس او ٹی ٹی” اور بعد ازاں “بگ باس 15” میں شرکت کے ذریعے دوبارہ توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی، مگر اب تک فلموں میں بھرپور واپسی نہیں کر سکیں۔
فلم “محبتیں” کے ذریعے متعدد نئے چہروں نے انڈسٹری میں قدم رکھا تھا، جن میں کم شرما بھی شامل تھیں۔ ابتدائی آغاز کے باوجود وہ زیادہ فلموں میں نظر نہ آ سکیں اور بالی ووڈ میں طویل کیریئر بنانے میں کامیاب نہ ہوئیں۔ اس وقت وہ اداکاری سے دور ہو کر اپنی ذاتی زندگی اور محدود عوامی سرگرمیوں پر توجہ دے رہی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








