علامہ اقبال کو دنیا سے رخصت ہوئے 86برس مکمل، برسی آج منائی جارہی ہے

تازہ ترین

تازہ ترین

علامہ اقبال
(فوٹو: آن لائن)

حکیم الامت، شاعرِ مشرق علامہ اقبال کو دنیا سے رخصت ہوئے 86 برس مکمل ہوگئے جن کی برسی آج ملی جوش و جذبے، عقیدت اور احترام کے ساتھ منائی جارہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق علامہ اقبال کے  فکر و فلسفے اور شاعری نے بیسویں صدی عیسوی کے دوران مسلمانانِ برصغیر  کی فکر و نظر کو منور کیا اور ان کے جسم و جاں میں آزادی کیلئے تڑپ پیدا کی۔

علامہ اقبال کے اشعار میں کسی عالم کی سی گہرائی و گیرائی ہی نہیں بلکہ ایک سچے مسلمان اور عاشقِ رسول ﷺ جیسی تڑپ اور لگن بھی تھی جس نے انگریز سامراج کے غلام ذہنوں کو خوابِ غفلت سے بیدار کردیا:

یا رب دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنا دے

جو قلب کو گرما دے ، جو روح کو تڑپا دے

پھر وادئ  فاراں کے ہر ذرّے کو چمکا دے

پھر شوقِ تماشا دے، پھر ذوقِ تقاضا دے

محرومِ تماشا کو پھر دیدۂ بِینا دے

دیکھا ہے جو کچھ میں نے اَوروں کو بھی دِکھلا دے

اس دور کی ظُلمت میں ہر قلبِ پریشاں کو

وہ داغِ محبّت دے جو چاند کو شرما دے

مَیں بُلبلِ نالاں ہوں اِک اُجڑے گُلستاں کا

تاثیر کا سائل ہوں، محتاج کو، داتا دے!

پنجاب کے تاریخی شہر سیالکوٹ میں علامہ اقبال 9 نومبر 1877ء کے روز پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم سیالکوٹ سے حاصل کی، مرے کالج سیالکوٹ سے ایف اے کا امتحان پاس کیا اور گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے کر لیا۔

فلسفے کے مضمون میں کیے گئے ایم اے نے علامہ اقبال کی سوچ میں ندرت پیدا کی۔ پھر علامہ اقبال اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے انگلینڈ گئے اور قانون کی ڈگری حاصل کی، جرمنی سے پی ایچ ڈی بھی کرلی۔

شمس العلماء مولوی میر حسن اور پروفیسر آرنلڈ جیسے اساتذہ علامہ اقبال کی روحانی و فلسفیانہ تربیت کے ذمہ دار رہے۔ 1922ء میں علامہ اقبال کو ان کی خدمات کے اعتراف میں ”سر“ کے خطاب سے نوازا گیا۔

آزادئ وطن کا درد رکھنے والے علامہ اقبال نے شاعری کے میدان میں ایک بڑا نام پیدا کیا اور گزشتہ ادوار کے تمام شعراء کے مقابلے میں کہیں زیادہ مقدار اور معیار کی شاعری کی جو آج تک اردو زبان کا کوئی اور شاعر نہ کرسکا۔

شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے مسلمانانِ برصغیر کو انگریز سامراج کی آزادی کے بعد مسلمانوں کے ایک الگ ملک کا تصور دیا ، یہی وجہ ہے کہ آپ کو مصورِ پاکستان کے لقب سے بھی نوازا گیا اور آپ پاکستان کے قومی شاعر بھی ہیں۔

تاہم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال 21 اپریل 1938ء کو قیامِ پاکستان سے بہت پہلے انتقال کر گئے جنہیں لاہور میں سپردِ خاک کردیا گیا۔ علامہ اقبال نے شاعری کیلئے اردو اور فارسی زبان کا استعمال کیا۔

حکیم الامت علامہ اقبال کی مشہور کتب میں بانگِ درا، ضربِ کلیم، بالِ جبریل، ارمغانِ حجاز جیسی کتابیں شامل ہیں۔ علامہ اقبال کی فارسی شاعری کے 7 مجموعوں کے علاوہ انگریزی کی کتب  بھی علم کے متوالوں  کا سرمایۂ افتخار ہیں۔

Related Posts