رزاق داؤد نے گیس کا مسئلہ اگلے سال تک برقرار رہنے کی نوید سنادی

تازہ ترین

تازہ ترین

gas problem would continue till next year:Razzaq Dawood

کراچی :مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ ملک میں گیس کی قلت کا مسئلہ بہت بڑا ہے، اگلے سال فروری سے مارچ تک گیس کے حوالے سے مسائل موجود رہیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو کراچی پریس کلب کے دورے کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔کراچی پریس کلب آمد پر صدر فاضل جمیلی ،سیکریٹری رضوان بھٹی اور دیگر عہدیداروں نے وفاقی مشیر تجارت کا استقبال کیا ۔

عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ کراچی پریس کلب تاخیر سے آنے پر معذرت خواہ ہوں۔یہ بات درست ہے کہ میں نے کراچی کے صحافیوں کو زیادہ وقت نہیں دیا۔کراچی کے صحافی دیگر شہروں کی نسبت اچھے اور اہم سوالات کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم معاملہ وزارت تجارت پر بات کرنے کاہے۔پاکستان میں ایکسپورٹ کلچر کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ برآمدات میں اضافے کے لیے ہر ملک دوڑ لگارہارہاہے۔معیشت کے لیے برآمدات کافروغ اور اضافہ بہت ضروری ہے۔

عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ مالی مسائل کی وجہ سے بار بار آئی ایم ایف سے 6ارب ڈالر کے لیے رجوع کرنا پڑ رہاہے۔فی الوقت برآمدات میں تیس فیصد کا اضافہ بہت اہم ہے۔

آئی ٹی سیکٹر کی برآمدات گذشتہ چار ماہ میں 35 فیصد کا اضافہ ہوچکا ہے۔ رواں مالی سال مجموعی برآمدات کا ہدف 38 ارب 70 کروڑ ڈالر حاصل کرلیں گے۔ ہم برآمدات میں ہدف کے اعتبار سے درست سمت پر جارہے ہیں۔نومبر میں ملکی تاریخ کی سب سے زیادہ برآمدات ہونگی۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور وسطی ایشیائی ممالک سے تجارت بڑھانے کے بہت مواقع ہیں ۔امریکا میں برآمدات کو بڑھانے کے لیے اگلے ہفتے نائیجیریا جارہا ہوں ۔ہمیں یورپ طرز کی علاقی تجارت کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی 40 فیصد خام مال کی درآمد ڈیوٹی فری ہے۔ مزید درآمدی خام مال کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کرنے پر کام کررہے ہیں۔

پاکستان درآمدات پر ٹیکس لینے والا دنیا کا بڑا ملک ہے۔پاکستان میں امپورٹ پر 47 فیصد جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش میں 27 فیصد لیا جاتا ہے خام مال کی درآمد پر ٹیکسوں میں کمی کی ضرورت ہے۔انہوںنے کہا کہ ہماری درآمدات بڑھنا بھی مسئلہ ہے۔

درآمدات کو کم کرنے کے کیے اقدامات کرنا ہونگے۔گندم ، چینی ، پالم آئل اور پیڑولیم مصنوعات کی بڑھتی درآمدات بھی مسائل میں اضافہ کررہی ہیں ۔

عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔امید ہے روپے کی قدر میں جلد استحکام آجائے گا۔

اس سلسلے میں مشیر وزارت خزانہ سے بھی ملاقات کی ہے۔مشیر تجارت نے کہا کہ سی پیک منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

اس منصوبے پر کام نہیں رکا ہے بلکہ اس کی سمت اب صنعتی زون پر ہے ۔سی پیک کے تحت چین کے تعاون سے صنعتکاری کا فروغ چاہ رہے ہیں۔ چائنیز کمپنیاں پاکستان آرہی ہیں۔

یہ کمپنیاں پاکستان کی مقامی مارکیٹ میں بھی سرمایہ کاری کررہی ہیں ۔ہم سی پیک کے تحت چائنیز سرمایہ کاری کو برآمدی شعبوں میں لے جاناچاہتے ہیں۔

عبدالرزا ق داؤد نے کہا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر پر سب سے پہلے توجہ دی گئی۔ اب ٹیکسٹائل کا شعبے تیزی سے ترقی کررہا ہے۔ ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات پر 14 سے 15 ارب ڈالر کا فوکس کررہے ہیں۔

ایران کے ساتھ بارٹر ٹریڈ پر مذاکرات ہوئے ہیں۔ایران کو چاول برآمد کریں گے اور بارٹر ٹریڈ کے تحت ایران سے ایل پی جی درآمد کریں گے۔

مزید پڑھیں:گیس بحران کا بروقت ازالہ نہ کیا گیاتو سنگین بحران پیدا ہوجائے گا، اسماعیل ستار

اس سلسلے میں ایران کے ساتھ معاہدہ تقریبا طے ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ پہلے ایف ٹی اے سے بہت سے پاکستان کی صنعتیں تباہ ہوگئی تھیں۔ چین جاکر اس معاملے پر بات کی۔ چین کو 313 ٹیرف لائن دی جسے انہوں نے تسلیم کیا۔ اب چین کو پاکستان کی برآمدات بہتر ہونا شروع ہوگئی ہے۔

ملک میں موجود گیس بحران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ گیس کی سپلائی پر میں بھی پریشان ہوں۔ گیس کی قلت کا مسئلہ بہت بڑا ہے جو صنعتیں بجلی پیدا کرنے کے لیے گیس استعمال کررہی ہیں انہیں گیس کی سپلائی منقطع نہیں ہوگی۔

برآمدی شعبے کی بھی گیس بند نہیں کی جائے گی ۔ اگلے سال فروری سے مارچ تک گیس کی مسائل رہیں گے۔

ہماری کوشش ہے کہ برآمدی شعبے کو کم سے کم مشکلات کا سامنا ہو۔ پاکستان کی برآمدات میں مسلسل اضافے پر توجہ مرکوز ہے۔ برآمدات بڑھانے کے لیے صنعتوں کو گیس کی سپلائی بہت اہم ہے۔ وزارت توانائی سے اس معاملے پر مسلسل رابطے میں ہوں۔

Related Posts