محکمہ تعلیم کالجز نے بایو میٹرک مشین نہ خریدنے والوں کو بلیک میل کرنا شروع کردیا

تازہ ترین

تازہ ترین

محکمہ تعلیم کالجز نے بایو میٹرک مشین نہ خریدنے والوں کو بلیک میل کرنا شروع کردیا
محکمہ تعلیم کالجز نے بایو میٹرک مشین نہ خریدنے والوں کو بلیک میل کرنا شروع کردیا

کراچی: محکمہ تعلیم کالجز نے کراچی کے متعدد کالجزکو خطوط لکھ کر من پسند ڈیلر سے بایو میٹرک مشینیں خریدنے کیلئے بلیک میل کرنا شروع کردیاہے، خواتین کے کالجز کو گزشتہ برسوں کاآڈٹ کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔

گورنمنٹ رونق ِ اسلام کالج کھارادر، گورنمنٹ گرلز کالج شاہ فیصل کالونی اور گورنمنٹ اپوا کالج فاروومن کریم آباد کی پرنسپلز کو بلیک میل کرنے پر کالج میں سخت تشویش پائی جارہی ہے۔

خط کے متن کے مطابق اپنے اپنے کالجوں میں محکمے کے حکم کے مطابق مخصوص ”الیکٹرونک بایو میٹرک اٹینڈینس ڈیوائس“ نصب کریں اور اگر اس حوالے سے کالج میں فنڈ زکی کمی کا عذرپیش کیا گیا تو کالج کا سخت آڈٹ کیا جائے گا اور گزشتہ کئی برسوں کا حساب کتاب بھی معلوم کیا جائے گا۔

لیٹر کے مطابق کالج کی انتظامیہ کی جانب سے فنڈز کی کمی کو حکّام ِ بالا نے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہے اور حکم دیا ہے کہ آپ کے کالجوں کا گزشتہ پانچ سال کے اخراجات کا ”انٹرنل آڈٹ اور انسپیکشن“ کا حکم صادر فرمایا ہے۔

ادھر ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ محکمہ تعلیم کالجز سندھ نے سندھ بھر کے تمام کالج پرنسپلز کو اپنے کالجوں میں مخصوص نوعیت کی ”الیکٹرونک بایو میٹرک اٹینڈینس ڈیوائس 20نومبرتک تک لازمی طور پر نصب کروانے کیلئے زور دینے اور بصورت دیگر گزشتہ پانچ سال کے اخراجات کے ”انٹرنل آڈٹ اور انسپیکشن“ کی دھمکی دی گئی ہے، جو کھلی دھمکی اور بلیک میلنگ کے مترادف ہے۔

یہاں یہ امر بھی قابل ِ ذکر ہے کہ محکمے کی جانب سے جن مخصوص اوصاف کی حامل ”الیکٹرانک بایو میٹک اٹینڈینس ڈیوائس“ کی تنصیب کا حکم دیا جارہا ہے ان میں سے ایک وصف یہ بھی ہونا ضروری ہے کہ وہ ڈیوائس ”دس ہزار سیزائد ملازمین کی حاضری ریکارڈ کرنے کی صلاحیت کی حامل ہونا ضروری ہے۔

جب کہ جن مخصوص اوصاف کی ڈیوائس کی تنصیب کا محکمہ تعلیم کالجز کی جانب سے حکم دیا جارہا ہے، محکمے کے ہی جاری کردہ ایک خط کے مطابق ماڈل کالونی، ملیر کراچی کے ایک مخصوص ڈیلر کے پاس ہی دستیاب ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کالج پرنسپلز کو اسی ڈیلر کے لئے پابند کرنے کا مقصد اپنا کمیشن کھرا کرنا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ چار سال سیزائد عرصے سے سرکاری کالجوں میں زیر ِ تعلیم طلبا و طالبات سے کسی بھی قسم کی فیس نہیں لی جاتی ہے، جس کی وجہ سے سرکاری کالجوں کے مالی وسائل کم ہیں، جس کی وجہ سے بیشتر کالجز کی انتظامیہ 75ہزار روپے کی مشین خریدنے کی بھی سکت نہیں رکھتے ہیں۔

ادھر متعدد کالجز کے پرنسپلز کا کہنا ہے کہ اگر محکمہ تعلیم کالجز کی جانب سے مخصوص ڈیلر سے مخصوص ڈیوائس نہ خریدنے والوں کو گزشتہ پانچ سالوں کے ”انٹرنل آڈٹ اور انسپیکشن“ کی دھمکی دی جارہی ہے۔

تو ایسا ہی ایک حکم نامہ محکمہ تعلیم کالجز سندھ کے ماتحت ڈائریکٹوریٹ جنرل کالجز سندھ کے لئے بھی جاری کرکے ان کے بھی گزشتہ پانچ سال کی آمدنی اور اخراجات کا ”انٹرنل آڈٹ اور انسپیکشن“ کرایا جائے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل کالجز سندھ میں گزشتہ دنوں وائرل وڈیو سے شدید نوعیت کی بے قاعدگیوں کا انکشاف کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ہیریکس اسکول کو 50ہزار روپے جرمانہ کرکے والدین کی درخواست پر کھول دیا گیا

کرپشن میں شہرت رکھنے والے ریجنل ڈائریکٹر کالجز کراچی حافظ عبدالباری اندھڑ نے اپنے قریبی ٹھیکیدار سے کمیشن وصول کرنے کے لئے پرنسپلز کو بلیک میل کرنا شروع کردیا ہے، جس کے لئے سینئر افسران کوجونیئر ملازمین سے رابطے کیلئے انوکھا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔

Related Posts