سابق چیف جسٹس کی تردید، کیا ثاقب نثار سے منسلک آڈیو جعلی ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

ثاقب نثار
(فوٹو: آن لائن)

حال ہی میں سابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور مریم نواز کی ضمانت منظور نہ کرنے سے متعلق ہدایات جاری کرکے عدلیہ پر دباؤ ڈالا جس کے بعد منظرِ عام پر آنے والی آڈیو نے عوام کو شش و پنج میں ڈال دیا ہے۔

مذکورہ آڈیو کلپ کو سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جعلی قرار دے دیا۔ جعلسازی کا نتیجہ قرار دی گئی آڈیو میں نواز شریف اور مریم نواز کو سنائی جانے والی سزاؤں کیلئے دباؤ ڈالنے کی بات سامنے آئی۔

سابق چیف جج گلگت بلتستان اور میاں ثاقب نثار

گلگت بلتستان سپریم کورٹ کے سابق چیف جج سے متعلق حال ہی میں ایک خبر شائع کی گئی جسے شائع کرنے پر جنگ اخبار کو حکومت کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

مذکورہ خبر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے مریم نواز اور نواز شریف کو ضمانت نہ دینے کیلئے دباؤ ڈالا جس سے متعلق حلف نامہ موجود ہے۔ سابق چیف جج گلگت بلتستان نے کہا کہ میں اپنے اس دعوے پر قائم ہوں۔

تاہم جسٹس ثاقب نثار نے یہ بیان جھٹلاتے ہوئے کہا کہ میں نے سابق چیف جج گلگت بلتستان کو توسیع نہیں دی تھی۔ سابق چیف جج جی بی رانا شمیم نے کہا کہ توسیع دینے کا اختیار سابق چیف جسٹس کا نہیں بلکہ وزیر اعظم کا تھا۔ 

آڈیو کلپ میں کیا ہے؟

آڈیو مختلف کلپس جوڑ کر بنانے کا مفروضہ سامنے لاتے ہوئے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اسے جعلی قرار دیا جبکہ آڈیو فیکٹ فوکس نامی ویب سائٹ پر اتوار کے روز منظرِ عام پر لائی گئی۔ آڈیو کلپ میں 2 افراد کی گفتگو سننے میں آئی۔

آڈیو کلپ میں 2 افراد باتیں کرتے ہوئے سنے جاسکتے ہیں جو گفت و شنید کے دوران یہ نہیں بتاتے کہ وہ کون ہیں یا ان کی شناخت کیا ہے، تاہم فیکٹ فوکس نے دعویٰ کیا کہ ایک آواز سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی ہے جو نواز شریف کو سزا دینے کا کہتے ہیں۔

مذکورہ آڈیو کلپ میں ثاقب نثار کہتے ہیں کہ عدلیہ کو کہا گیا ہے کہ نواز شریف کو سزا سنائیں۔ میں لگی لپٹی رکھے بغیر کہتا ہوں کہ ادارے ہی ہمارے ہاں فیصلے سناتے ہیں۔ میاں صاحب (نواز شریف) کو سزا دینی ہے اور خان صاحب کو لانے کا کہا گیا ہے۔

میاں ثاقب نثار یہ کہتے ہوئے بھی سنائی دئیے کہ کہا ہے جی، اب کرنا پڑے گا۔ دوسرا فرد کہتا ہے کہ میرے خیال میں بیٹی (مریم نواز) کو سزا دینا نہیں بنتا۔ میاں ثاقب نثار سے منسوب آواز کہتی ہے کہ آپ بالکل ٹھیک ہیں۔ دوستوں سے کچھ کرنے کا کہنے پر انہوں نے اتفاق نہیں کیا۔

میاں ثاقب نثار کا بیان 

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے مطابق سابق چیف جسٹس نے رابطہ کرنے پر آڈیو کو جعلسازی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب من گھڑت ہے، میں نے کسی سے ایسی کوئی بات نہیں کی تاہم انہوں نے آڈیو اپنی ہونے کے متعلق واضح جواب نہیں دیا۔

آڈیو کو کہیں سے توڑ جوڑ کر اکٹھا کیا ہوا بتاتے ہوئے سابق چیف جسٹس نے کہا کہ میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ آڈیو کسی اور کی ہے یا میری، لیکن (یہ کہہ سکتا ہوں کہ) میں نے کبھی کسی سے (ایسی بات) نہیں کی۔انہوں نے ویڈیو کلپ کو جعلسازی کا نتیجہ قرار دیا۔

کیا نواز شریف کو سزا میرٹ پر ملی؟

میڈیا کے نمائندہ نے سابق چیف جسٹس سے سوال کیا کہ کیا وہ (نواز شریف اور مریم نواز کے متعلق) فیصلے میرٹ پر ہوئے؟ تو میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ججز فیصلے میرٹ پر کرتے ہیں، میں نے کسی کو ایسا حکم ہی نہیں دیا تو کیسے کہا جاسکتا ہے کہ فیصلہ میرٹ پر نہیں ہوا؟

 

Related Posts