ممبئی کی لڑکی سے محبت، پاکستانی نوجوان بھارتی سرحد پار کر گیا

تازہ ترین

تازہ ترین

لڑکی کی ممبئی آمد کی دعوت، سرحد عبور، پاکستانی نوجوان بھارت میں گرفتار
لڑکی کی ممبئی آمد کی دعوت، سرحد عبور، پاکستانی نوجوان بھارت میں گرفتار

نئی دہلی: کہا جاتا ہے کہ محبت کاجذبہ مختلف ممالک کی سرحدوں سے بلند ہوتا ہے اور محبت کرنے والے ذات پات، رنگ و نسل بلکہ مذہب کو بنیاد بنا کر بھی ایک انسان کو دوسرے سے الگ کرنے کے مخالف ہوتے ہیں تاہم یہی محبت بعض اوقات زندگی اجیرن کردیتی ہے۔

محبت کاجذبہ آج کل بھارتی شہریوں کو پاکستان اور پاکستانیوں کو بھارت پہنچانے کا سبب بن رہا ہے۔ بہاولپور سے تعلق رکھنے والے محمد احمر کو بھی بھارتی لڑکی پسند آگئی۔ سوشل میڈیا پر 21 سالہ احمر ایک ممبئی کی لڑکی سے محبت کر بیٹھا۔

یہ بھی پڑھیں:

جاپان، ہسپتال میں انتقال کر جانے والے پاکستانی شہری کی میت نذرِ آتش

 لڑکی نے طیارے کے بیت الخلاء میں بچے کو جنم دیکر کوڑے دان میں پھینک دیا

دوسری جانب لڑکی اپنی محبت میں سنجیدہ نہیں تھی۔ گزشتہ ماہ محمد احمر محبت کے جوش میں بہہ کر پاک بھارت سرحد غیر قانونی طریقے سے پار کر گیا۔ پاکستان اور بھارت کے مابین ایک صحرا موجود ہے جسے یہاں تھر اور بھارت میں راجستھان کہتے ہیں۔

مہمان نوازی پاکستان میں ہی نہیں، بھارت میں بھی بہت اچھی کی جاتی ہے۔ بھارتی سیکورٹی فورسز کی محمد احمر پر نظر پڑی تو آؤ بھگت شروع کردی گئی۔ بھارتی افسران کے مطابق پاکستانی نوجوان سے اسلحے کی جگہ 500کا نوٹ برآمد ہوا۔

پاکستان سے کوئی کبوتر بھی بھارت پہنچ جائے تو اس پر خوب تفتیش کی جاتی ہے تاہم 500 کا نوٹ نکلنے پر بھارتی افسران کو حیرت ہوئی۔ سوال و جواب کے دوران محمد احمر نے بتایا کہ مجھے ممبئی کی ایک لڑکی سے محبت ہے جس کی تلاش شروع ہوئی۔

لڑکی کی ممبئی آمد کی دعوت پر بھارت پہنچنے والے نوجوان کا کہنا تھا کہ ویزہ کی درخواست نامنظور ہونے پر غیر قانونی قدم اٹھانا پڑا۔ بھارتی اہلکار کا کہنا تھا کہ محمد احمر یہ بھی نہیں جانتا کہ راجستھان اور ممبئی کے مابین فاصلہ 1ہزار400کلومیٹر ہے۔

محمد احمر کو بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع سری گنگا نگر میں گرفتار کیا گیا۔ تفتیش کاروں نے لڑکی کو ڈھونڈ نکالا جو کالج کی طالبہ تھی اور پھر محبت کا دعویٰ جھوٹا نکلا۔لڑکی نے کہا کہ میں سنجیدہ نہیں، ممبئی آمد کی دعوت مذاق مذاق میں دے دی تھی۔

اس کے باوجود بھارتی پولیس کی تشویش کم نہ ہوسکی۔ حکام کا کہنا ہے کہ تاحال یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ نوجوان بے قصور ہے۔ اگر یہ ثابت ہوا تب بی ایس ایف اور پاکستان رینجرز ایک فلیگ میٹنگ کے دوران نوجوان کو پاکستان کے حوالے کریں گے۔ 

Related Posts