را پاکستان میں دہشتگردی کیلئے مقامی مجرموں کو استعمال کررہی ہے، شیخ رشید

تازہ ترین

تازہ ترین

را نے پاکستان میں دہشتگردی کیلئے مقامی مجرموں کو استعمال کررہی ہے، شیخ رشید
را نے پاکستان میں دہشتگردی کیلئے مقامی مجرموں کو استعمال کررہی ہے، شیخ رشید

اسلام آباد: وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ ہندوستان کی انٹیلی جنس ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالائسز ونگ (را) نے پاکستان میں دہشت گردانہ حملے کرنے کے لیے مقامی مجرموں کی خدمات حاصل کی ہیں۔

وزیر داخلہ نے سینیٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”بھارت کو افغانستان میں اپنی سب سے بڑی شکست کا سامنا کرنے کے بعد، اس کی خفیہ ایجنسی کچھ پاکستانیوں کو استعمال کر رہی ہے اور انہیں یہاں کے امن کو سبوتاژ کرنے کے لیے 2.5 ملین ادا کر رہی ہے۔”

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے تمام اراکین بلوچستان کی صورتحال سے آگاہ ہیں جہاں داعش، تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان ریپبلکن آرمی اور القاعدہ کی کچھ شاخوں سمیت پانچ سے چھ عسکریت پسند تنظیمیں موجود تھیں۔

تاہم وفاقی وزیر نے یقین دلایا کہ ملک کی سیکیورٹی فورسز چوکس ہیں اور ملک کو غیر مستحکم کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گی۔

کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مذاکرات پر روشنی ڈالتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ اب مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو عناصر پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہیں ان سے مذاکرات ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کچھ عناصر، جو امن چاہتے ہیں، کو مذاکرات کا موقع فراہم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاہم جو لوگ پاکستان کی سا لمیت کے خلاف عزائم رکھتے ہیں وہ کبھی بھی بات چیت میں شامل نہیں ہو سکتے۔

شیخ رشید نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحفظ کے لیے حکومت کے عزم کی بھی توثیق کی، انہوں نے مزید کہا کہ ”عمران خان کی حکومت CPEC پر اپنے وعدے کو پورا کرے گی۔”

افغان طالبان کی جانب سے پاک افغان سرحد پر باڑ کے ایک حصے کو اکھاڑ پھینکنے کی اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ باڑ کا ایک حصہ گرا دیا گیا تھا اور ”یہ مین لائن کے ساتھ نہیں تھا۔”

آج کی بریفنگ میں، وزیر داخلہ نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM) سے اپنی 23 مارچ کی ریلی کو مؤخر کرنے کے لیے بھی کہا، یہ کہتے ہوئے کہ اس وقت کئی غیر ملکی معززین اسلام آباد کا دورہ کریں گے اور ”وہاں سخت سیکیورٹی ہوگی” جس میں ریلیوں کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔

شیخ رشید نے کہا کہ اپوزیشن اپنا لانگ مارچ جاری رکھنے کا انتخاب کر سکتی ہے لیکن وہ اسے ری شیڈول کرنے کا مشورہ دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘وزیراعظم عمران خان اور میں دونوں اس ملک سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں جتنا آپ (اپوزیشن) کرتے ہیں لیکن یاد رکھیں 23 مارچ کو دہشت گردی کا خطرہ ہے’۔

مزید پڑھیں: معیشت کی ترقی کے اثرات جلد عوام کو منتقل ہوں گے، وزیراعظم

انہوں نے کہا کہ وہ ”PDM کے لانگ مارچ سے خوفزدہ نہیں ہیں لیکن دہشت گردی کے خطرات ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ شہید بینظیر بھٹو کو بھی کہا گیا تھا کہ وہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر راولپنڈی میں جلوس نہ نکالیں لیکن وہ انتباہ کے باوجود آگے بڑھ گئیں۔

Related Posts