اسلام آباد: حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ ہوا ہے اپنے خطاب میں اُن کا کہنا تھا کہ صدارتی نظام کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔
پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس مولانافضل الرحمان کی زیر صدارت منعقد ہوا، اجلاس میں احسن اقبال، مریم نواز اور شہباز شریف ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے،اجلاس میں مسلم لیگ ن کے شاہد خاقان عباسی، مریم اورنگزیب، ڈاکٹرطارق فضل چودھری اور بلال کیانی شریک ہوئے۔ نیشنل پارٹی کے عبدالمالک، آفتاب شیرپاؤ، اویس نورانی شریک ہوئے، جمعیت علمائے اسلام کے حافظ عبدالکریم اور حافظ حمداللہ بھی اجلاس میں شریک تھے۔
پی ڈی ایم کے اجلاس میں 23 مارچ کے لانگ مارچ کے حوالے سے حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں ان ہاؤس تبدیلی کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کا بھی جائزہ لیا گیا۔ پی ڈی ایم کی اسٹیئرنگ کمیٹی کی سفارشات پر غور کیا گیا، پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کیس سے متعلق بھی جائزہ لیا گیا۔
مولانا فضل الرحمن نے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل اور منی بجٹ کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عوام پر ٹیکسوں کے اضافہ بوجھ کو مسترد کرتے ہیں۔اجلاس کے دوران حکومت مخالف اتحاد پی ڈی ایم رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ نے ملک بھر میں پھیلنے والی صدارتی نظام کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا نظام کا نفاذ خطرناک ثابت ہوگا، صدارتی نظام ملکی تشخص پر وار تصور ہوگا۔
مولانا فضل الرحمان نے اجلاس کے دوران کہا کہ اتحادی جماعتوں کو اپنے موقف پر قائل کرنا چاہیے۔ اگر اتحادی ایوان میں اپوزیشن کے موقف کی حمایت کرتے ہیں تو عدم اعتماد کی بھی ضرورت نہیں رہے گی،حکومت اخلاقی طور پر اپنا وجود کھو چکی ہے۔ حکومتی اتحادی بھی عوام دشمن پالیسیوں کے باعث تذبذب کا شکار ہیں۔ اپوزیشن کو اتحادی جماعتوں کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کرنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ23مارچ کوپی ڈی ایم اسلام آباد میں داخل ہوگی، پریڈ صبح کے وقت ہوتی ہے ہم نے 23 مارچ کو ظہر کے بعد اسلام آباد آنا ہے، کوئی تصادم نہیں ہو گا، عدم اعتماد تحریک، پارلیمانی نظام کا حصہ ہے، عدم اعتماد کے لیے جب تک تمام جماعتیں ایک پیج پرنہیں ہوتی تب تک کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عوام ملک کے کونے، کونے سے 23 مارچ کو اسلام آباد کا رُخ کریں گے، 23 مارچ کولانگ مارچ میں کسان بھرپورشرکت کریں گے، موجودہ حکمرانوں کے خاتمے کے لیے مارچ آخری کیل ثابت ہوگا۔دودن قبل پی ڈی ایم اسٹریئنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا، 23مارچ کومہنگائی مارچ ہوگا۔ تمام جماعتوں کی ذیلی تنظیمیں مارچ کو کامیاب بنائیں گی۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں پی ڈی ایم کے قیام یا دھرنے کی تفصیل لانگ مارچ کے قریب جاری کی جائیں گی۔حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے وفاقی حکومت کی جانب سے 23 مارچ کے احتجاج کو چند روز آگے لے جانے کے بعد حکومت مخالف اتحاد نے لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل نہ کرنے پر اتفاق کیا، مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ احتجاج 23 مارچ کو ہی ہو گا اور 23 مارچ کے لانگ مارچ کے اسلام آباد میں قیام کو خفیہ رکھا جائے گا۔
مزید پڑھیں: عمران مافیا نے دیدہ دلیری سے پاکستان پر ہاتھ صاف کیے، مریم نواز
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








