پاکستان میں کرکٹ سب سے مقبول کھیل ہے اور عالمی کرکٹ میں کئی نامور کھلاڑی پیدا کرنے کے علاوہ فاسٹ باؤلنگ میں بھی پاکستان نے اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔
اوول کے ہیروفضل محمود سے لے کر نسیم شاہ تک ملک خدادا دمیں درجنوں نامور کھلاڑیوں نے اپنی تیزگیندبازی سے دنیا کے بڑے بڑے بلے بازوں کو مشکل وقت دیا۔
کراچی کے نوجوان سیف علی غوری بھی پاکستان کیلئے تیز گیند بازی کے شعبہ میں نام پیدا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
ایم ایم نیوز نے انڈر19 میں پاکستان کی نمائندگی کرنیوالے سیف علی غوری سے ان کے اب تک کے سفر کے حوالے سے خصوصی نشست کا اہتمام کیا جس کا احوال پیش خدمت ہے۔
ایم ایم نیوز:آپ نے کس کھلاڑی کو دیکھ کر کرکٹ کھیلنا شروع کیا ؟ سیف علی غوری: پاکستان میں چونکہ اسٹریٹ کرکٹ عام ہے تو میں نے بھی ٹیپ بال سے کھیلنا شروع کیا ، مجھے شروع سے ہی فاسٹ باؤلنگ پسندتھی اور بریٹ لی میرے آئیڈیل ہیں ، ان کا اسٹائل اور رن اپ مجھے بہت پسند ہے۔
ایم ایم نیوز:ایک اچھے فاسٹ باؤلر میں کون کون سی خوبیاں ہونی چاہئیں؟ سیف علی غوری: فاسٹ باؤلر کو جنونی کہا جاتا ہے اور یہ ہونا بھی چاہیے جب تک ایک تیز گیند باز جارحانہ مزاج کا حامل نہیں ہوتا، کرکٹ کے میدان میں اپنا آپ منوانا مشکل ہوجاتا ہے۔
ایک فاسٹ باؤلر کوجارحانہ رویہ اپنانا چاہیے، جارحانہ رویہ فاسٹ باؤلر کا خفیہ ہتھیارہوتا ہے،بلے باز ضرور پریشان ہوتا ہے، آپ کو بھلے محسوس نہ ہولیکن بیٹر پریشان ہوتاہے۔
ایم ایم نیوز:فاسٹ بالر کے طور پر آپ کیسے کپتان کے ساتھ کھیلنا پسند کرتے ہیں ؟ سیف علی غوری: ایک کپتان کیلئے حواس پر قابورکھنا بہت ضروری ہوتا ہے، کپتان کا کام کھلاڑیوں کو کنٹرول کرنا ہوتاہے اور اگر کپتان غصے میں ہو تو ٹیم کو کنٹرول کرنا مشکل ہوجاتاہے۔ بابراعظم ایک بہترین کپتان ہیں کیونکہ وہ ہرطرح کی صورتحال میں حواس پر قابو رکھتے ہیں۔
ایم ایم نیوز:کس کس قومی وبین الاقوامی کرکٹر کے ساتھ اب تک کھیل چکے ہیں ؟ سیف علی غوری: پاکستان کے سابق کپتان مصباح الحق،شاہد آفریدی، شاداب خان اور دیگر کئی فرسٹ کلاس کرکٹرز کے علاوہ آسٹریلیاکے ایڈم زمپا، بھارت کے ایشن کشن، رشب پنت ، افغانستان کے راشد خان اور حضرت اللہ زازئی کے ساتھ بھی کھیل چکا ہوں۔
ایم ایم نیوز:آپ کی اب تک کامیابیاں جن پر فخر محسوس ہوتا ہے ؟ سیف علی غوری: 2016ء میں بنگلہ دیش میں ہونیوالے ورلڈ کپ میں پاکستان انڈر19 ٹیم کی نمائندگی کی ۔ عالمی سطح پر پاکستان کیلئے کھیلنے کے علاوہ قومی اور مقامی سطح پر بھی کئی ٹیموں کے ساتھ کھیل چکا ہوں۔
ایم ایم نیوز:پاکستان سپرلیگ میں پسندیدہ ٹیم کونسی اور کیوں ہے؟ سیف علی غوری: پاکستان سپر لیگ ہمارا اپنا برانڈ ہے اور جہاں تک ٹیموں کی بات ہے تو پی ایس ایل میں اس وقت لاہور قلندر سب سے متوازن جبکہ اسلام آباد سب سے اچھا کھیلنے والی ٹیم ہے، پشاور زلمی کا اسکواڈ بھی بہت اچھا ہے۔
ایم ایم نیوز:اس بات میں کتنا سچ ہے کہ ٹی ٹوئنٹی فاسٹ باؤلرز کو تباہ کررہی ہے ؟ سیف علی غوری: کرکٹ کا اصل مزہ ٹیسٹ ہی ہے، ٹی ٹوئنٹی نے تو بلے بازوں اور باؤلرز کو تباہ کردیا ہے۔
آج کرکٹ میں کھلاڑی کی باؤلنگ دیکھی جاتی ہے نہ بیٹنگ کی صلاحیت،بیٹر کیلئے صرف ہٹنگ اور گیند باز کو 24 گیندوں کا اسپیل کروانا آنا چاہیے۔ اگر آپ اپنی کرکٹ کو آگے لیکر جانا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے اندر ٹھہراؤ پیدا کرنا چاہیے جس کیلئے ٹیسٹ کرکٹ بہت زیادہ ضروری ہے۔
ایم ایم نیوز:ایک تیز گیندباز کیلئے فٹنس کتنی اہمیت رکھتی ہے؟ سیف علی غوری: فاسٹ باؤلر کیلئے فٹنس سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ ایک میڈیم فاسٹ باؤلر کو بھی کم سے کم 20 سے 24 قدم بھاگنا ہوتا ہے اور جب تک آپ فٹ نہیں ہونگے تو گیند کروانا مشکل ہوگا۔ ایک باؤلر کو اتنا فٹ ہونا چاہیے کہ وہ 15 اوور کرسکے۔
ایم ایم نیوز:آج کے باؤلر کیلئے بیٹنگ کرنا کتنا ضروری ہے ؟ سیف علی غوری: آج کی تیز ترین کرکٹ میں باؤلرز کیلئے بھی بیٹنگ کرنا ضروری ہوچکا ہے اور ایک باؤلر کو اتنی بیٹنگ تو آنی چاہیے کہ وہ آخری نمبروں پر بھی ٹیم کو کچھ سہارا ضرور دے سکے۔
ایم ایم نیوز:نئے آنیوالے کھلاڑیوں کو کیاپیغام دینا چاہیں گے؟ سیف علی غوری: میرا پہلا پیغام تویہ کہ اپنی نیند پوری کریں اور اچھا کھانا کھائیں، جنک فوڈ سے پرہیز کریں۔ 5 وقت نماز پڑھیں۔خود کو اس قابل بنائیں کہ جہاں آج دوسروں کو دیکھتے ہیں وہاں کل خود موجود ہوں اوردنیا کو کچھ کرکے دکھائیں۔