ملک بھر میں رقوم کی ترسیل کیلئے اسٹیٹ بینک کا راست ادائیگی نظام کیا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

ملک بھر میں رقوم کی ترسیل کیلئے اسٹیٹ بینک کا راست ادائیگی نظام کیا ہے؟
ملک بھر میں رقوم کی ترسیل کیلئے اسٹیٹ بینک کا راست ادائیگی نظام کیا ہے؟

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے جمعرات کو ملک بھر میں فوری ادائیگی کے نظام راست کے ذریعے فرد سے فرد تک (پی ٹو پی) فنڈز کی منتقلی کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔

وزیراعظم  نے 11 جنوری کو راست کا آغاز کیا، یہ اقدام عمران خان کے ڈیجیٹل پاکستان ویژن  کا حصہ ہے جس کا مقصد معاشرے کے غریب طبقات کو باضابطہ معیشت میں شامل کرنا ہے۔ راست کو کار انداز پاکستان کے تعاون سے تیار کیا جا رہا ہے اور اسے مرحلہ وار متعارف کرایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

سندھ بلدیاتی قانون: جماعت اسلامی کی کاوشیں، اُمیدیں اور توقعات

ملک بھر میں راست کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان ان ممالک کے منتخب گروہ میں شامل ہو گیا جنہوں نے فوری ادائیگی کے ڈیجیٹل نظام کو یا تو شروع کردیا یا شروع کرنے کے مراحل میں شامل ہو گئے ہیں جسے سائنس و ٹیکنالوجی اور معاشی لحاظ سے بھی اہم اقدام قرار دیا جارہا ہے۔

راست کیا ہے؟

مرکزی بینک کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق راست پاکستان کا پہلا فوری ادائیگی کا نظام ہے جو افراد، کاروباری نجی اور سرکاری اداروں کے درمیان فوری طور پر ایک سے دوسرے تک (اینڈ ٹو اینڈ) ڈیجیٹل ادائیگیوں کو ممکن بنائے گا۔

اردو زبان میں راست کا مطلب درست اور ٹھیک ہے۔راست پاکستان کے لوگوں کو ایک فوری، قابل اعتماد اور صفر لاگت والا ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام پیش کرتا ہے جو ملک بھر کے شہریوں کیلئے ایک بڑی خوشخبری کہی جاسکتی ہے۔ 

جدید ترین پاکستان کا تیز ترین ادائیگی کا نظام چھوٹی قیمت کی خوردہ ادائیگیوں کو حقیقی وقت میں طے کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا جبکہ ساتھ ہی ساتھ کمرشل اور مائیکرو فنانس بینکوں سمیت مالیاتی صنعت کے تمام اداروں کو سستی اور عالمگیر رسائی فراہم کرے گا۔

پی ٹو پی سروس 

اپنے ایک بیان میں اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ پی ٹو پی سروس کا آغاز نہ صرف صارفین کو ایک آسان اور پریشانی سے پاک ڈیجیٹل فنڈ ٹرانسفر سروس فراہم کرے گا بلکہ ادائیگیوں کا ایک مؤثر اور فعال ڈھانچہ بھی فراہم کرے گا جو معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن کی راہ ہموار کرے گا اور ملک میں ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کے فروغ کا بھی باعث ہوگا۔

ادائیگیوں کے انتقال اور سیٹلمنٹ سروسز کے تحت صارفین اپنے بینک کی موبائل ایپلیکیشن، انٹرنیٹ بینکنگ یا اوور دی کاؤنٹر خدمات کا استعمال کرکے اپنے اکاؤنٹس میں رقوم نہ صرف بھیج سکیں گے بلکہ بغیر کوئی بھاری بھرکم ادائیگی کیے بغیر وصول بھی کرسکیں گے۔

اس سلسلے میں بینکوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے، اسٹیٹ بینک بینکوں کو مفت راست سروسز بھی پیش کرے گا۔ مزید، اپنے صارفین کی سہولت کے لیے، بینک کم از کم لین دین کا تعین نہیں کریں گے۔ 

عام طور پر، بینکوں کو زیادہ سے زیادہ 2 لاکھ روپے فی لین دین یا اس سے زیادہ کی  لین دین کی حد رکھنے کی اجازت ہوگی جو کہ صارف کے خطرے کی پروفائل پر منحصر ہے۔

اکاؤنٹ کی مخصوص اقسام کے لیے جہاں اسٹیٹ بینک نے وقتاً فوقتاً حدیں مقرر کی ہیں، زیادہ سے زیادہ لین دین کی حد 2 لاکھ روپے فی لین دین سے کم ہو سکتی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ راست استعمال کرنے والے اپنے صارفین کو ایک ہموار، آسان اور پریشانی سے پاک تجربہ فراہم کریں۔

رجسٹر کیسے کریں؟

صارفین راست کی سہولت حاصل کرنے کیلئے اپنا رجسٹرڈ موبائل فون نمبر اپنی راست آئی ڈی کے طور پر سیٹ کر سکتے ہیں اور اسے بینک کی موبائل ایپلیکیشن، انٹرنیٹ بینکنگ، یا اپنی بینک برانچ میں جا کر اپنے پسندیدہ انٹرنیشنل بینک اکاؤنٹ نمبر (آئی بی اے این) سے منسلک کر سکتے ہیں۔

ایک بار جب کوئی صارف اپنا موبائل فون نمبر راست آئی ڈی کے طور پر سیٹ کرلیتا ہے تو دوسرے اکاؤنٹ نمبر یا دیگر تفصیلات فراہم کیے بغیر موبائل فون نمبر استعمال کرکے رقم بھیج سکتے ہیں۔

بینک کے صارفین اب بھی اپنے آئی بی اے این نمبر کا استعمال کرتے ہوئے فنڈز بھیجنے یا وصول کرنے کے لیے راست سروس کا استعمال کر سکتے ہیں چاہے ان کے پاس راست آئی ڈی نہ ہو یا وہ اپنا آئی بی اے این استعمال کرنے کو ترجیح دیں۔

اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ راست پرسن ٹو پرسن فنڈ ٹرانسفر سروس کی کم از کم 3  صارفین ذرائع بشمول موبائل ایپلیکیشن، انٹرنیٹ بینکنگ اور برانچ کاؤنٹرز پر دستیابی یقینی بنائیں۔

Related Posts