اسلام آباد: قومی اسمبلی میں دوہری شہریت والوں سے ووٹ کا حق واپس لینے اور صرف پاکستانی شہریت والے اوورسیز کو حق دینے جبکہ حکومتی مخالفت کے باوجود معذوروں کو مخصوص نشستیں دینے کا بل پیش کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیرصدارت اجلاس میں لیگی رکن طاہرہ اورنگ زیب نے سوال اٹھایا 2018ء کی قیمتیں کب واپس آئیں گی؟ چھوٹا گوشت سولہ سو روپے پر چلا گیا ؟ یہ کب واپس آئے گا؟ جس پر وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث نے کہا پچھلی حکومت مہنگائی کر گئی ، جس میں جلد کمی آئے گی۔
پاکستان تحریک انصاف کے منحرف رکن نور عالم خان نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوہری شہریت کے حامل بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے خلاف جبکہ پاکستانی شہریت رکھنے والے بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے حق میں ہیں۔ بل مجوزہ انتخابی اصلاحات کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔
جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ کی آڑ میں مقدمات درج ہونے کیخلاف ہوں تاہم عمرانی فتنے کیخلاف فیصلے کا وقت آ گیا، علما ء کی مشاورت سے فیصلہ کیا جائے، عمران خان نیوکلیر پروگرام کو سی پیک کی طرح رول بیک کرنا چاہتے تھے، کمیشن بننا ہے تو بنائیں، 2014ء اور 2017ء میں نواز شریف کے ساتھ جو ہوا، اس پر بھی بنائیں، مذہب اوراداروں کیخلاف باتیں کی جا رہی ہیں، ہم کرتے تو قید ہوتے بتایا جائے لاڈلے کو ڈھیل کون دے رہا ہے؟
ایاز صادق نے کہا کہ تحریک انصاف والوں نے پہلے بھی استعفے دیئے اور تنخواہیں لیں،اب پھر یہی کریں گے بتایا جائے اب انھیں تنخواہیں کیسے دی گئیں؟ آرٹیکل 48 کے تحت صدر، وزیراعظم کی ایڈوائس پر کام کرتا ہے، اگر وہ آئین کی عزت نہیں کرتا تو عزت سے گھر چلا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ دینے سے روکا گیا تو سپریم کورٹ جاؤنگا، شیخ رشید
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








