حکومت نے چیئرمین نیب جاوید اقبال کو ہٹانے کا فیصلہ کرلیا

تازہ ترین

تازہ ترین

حکومت نے چیئرمین نیب جاوید اقبال کو ہٹانے کا فیصلہ کرلیا
حکومت نے چیئرمین نیب جاوید اقبال کو ہٹانے کا فیصلہ کرلیا

اسلام آباد: حکومت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کو ہٹانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق حکومت نے تکنیکی بنیادوں پر چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ نیب ترمیمی آرڈیننس کی میعاد 2 جون کو ختم ہو رہی ہے اور جب آرڈیننس ختم ہوگا تو موجودہ چیئرمین نیب اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، ٹی ٹی پی کے 2 دہشتگرد ہلاک

ذرائع کے مطابق نیب ترمیمی آرڈیننس میں موجودہ چیئرمین نیب کو اگلے چیئرمین کی تعیناتی تک کام جاری رکھنے کی شق شامل کی گئی تھی اور جسٹس جاوید (ر) اقبال عارضی انتطام کے تحت اس وقت بطور چیئرمین نیب کام کر رہے ہیں۔

دوسری جانب عدالت نے مشہورومعروف کاروباری شخصیت اور سابق رکنِ قومی اسمبلی حنیف عباسی کو معاونِ خصوصی کی حیثیت سے کام کرنے سے روک دیا ہے۔

وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے 2008 سے 2013 تک رکنِ قومی اسمبلی کی حیثیت سے قوم کی خدمت کرنے والی کاروباری شخصیت حنیف عباسی کو معاونِ خصوصی مقرر کیا تھا، تاہم سابق وزیرِ داخلہ نے ان کے خلاف درخواست دے دی۔

آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سابق وزیرِداخلہ شیخ رشید احمد کی حنیف عباسی کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ وکیلِ صفائی کا کہنا تھا کہ عدالت حنیف عباسی کو کام سےنہ روکے، یہ تو حتمی ریلیف ہوگا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے حنیف عباسی کے وکیل کی استدعا مسترد کردی۔ عدالتِ عالیہ اسلام آباد نے قرار دیا کہ سزا یافتہ شخص سرکاری آفس میں خدمات انجام نہیں دے سکتا۔ وزیر اعظم کو مشورہ دینا ہے تو اس کیلئے نوٹیفکیشن ضروری نہیں۔

Related Posts