اسلام آباد: پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے قومی احتساب بیورو نیب (دوسری ترمیم) بل 2021 اور انتخابات (ترمیمی) بل 2022 کی منظوری دے دی۔
یہ بل گزشتہ ماہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کیے گئے تھے اور اسے قانون بنانے کے لیے صدر ڈاکٹر عارف علی کی منظوری کے لیے بھیجا گیا تھا۔ صدر نے بلوں پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا اور انہیں یہ کہہ کر وزیر اعظم کو واپس کر دیا تھا کہ وہ جلد بازی میں اور بغیر کسی مستعدی کے دستخط کر رہے ہیں۔
پارلیمنٹ میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے دونوں بل پیش کئے۔ انہوں نے کہا کہ قانون سازی صرف پارلیمنٹ کا اختیار ہے اور صدر مقننہ کو حکم نہیں دے سکتے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے صدر کے اعتراضات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
انتخابی ترمیمی بل نے انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کے استعمال اور سمندر پار پاکستانیوں کے حق رائے دہی کو ختم کر دیا ہے۔ نیب بل کا مقصد اینٹی گرافٹ واچ ڈاگ کے اختیارات اور چیئرمین نیب کی ریٹائرمنٹ کے بعد کے طریقہ کار کو ختم کرنا ہے۔
صدر نے یہ کہتے ہوئے بل واپس کردیئے تھے کہ آئین کے آرٹیکل 46 کی خلاف ورزی کی گئی ہے کیونکہ بل کو پارلیمنٹ میں لانے سے قبل انہیں قانون سازی کی تجویز کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔
بلوں کو صدر کی منظوری کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ یہ اب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور ہو چکے ہیں۔ پی ٹی آئی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹ کے حق اور ای وی ایم کے استعمال کے لیے ایک مضبوط آواز رہی ہے۔ پی ٹی آئی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا۔
بل میں تجویز کیا گیا کہ نیب آرڈیننس کا اطلاق وفاقی، صوبائی یا مقامی ٹیکسوں، وفاقی یا صوبائی کابینہ اور آئینی اداروں کے فیصلوں کے ساتھ ساتھ کسی بھی عوامی یا سرکاری کام کی کارکردگی میں طریقہ کار کی خامیوں سے متعلق تمام معاملات پر لاگو نہیں ہوگا۔
مزید پڑھیں:معاشی ترقی کی شرح 5.97، مہنگائی 11.3 فیصد ریکارڈ: قومی اقتصادی سروے پیش
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








