اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہمارے دور حکومت میں ملکی آمدن میں بھی اضافہ ہوا، 6 ہزار 1 سو ارب روپے ٹیکس بھی اکٹھا کیا گیا۔
انہوں نے کہا ہے کہ اقتصادی سروے میں بتایا گیا گروتھ ریٹ ثابت کرتا ہے گزشتہ 2 برس میں پاکستان ترقی کر رہا تھا۔
عمران خان نے معاشی اصلاحات کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں باہر کے ملکوں سے بڑا پیسہ آرہا تھا، مشرف دور سے زیادہ ہماری حکومت میں ترقی ہوئی، ہماری سالانہ دولت میں اضافہ ہوا۔ آج اکنامک سروے پیش کیا گیا ہے، گروتھ ریٹ ثابت کرتا ہے پاکستان پچھلے دوسال میں ترقی کررہا تھا۔
پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ چار اعشاریہ چار فیصد ایگری کلچر میں گروتھ ہوئی، پہلی دفعہ کسانوں نے پیسے کمائے، پہلے شوگر مافیا کسانوں کو پیسے نہیں دیتے تھے، چھ ہزار 100 ارب ہم نے ٹیکس اکٹھا کیا، لارج اسکیل مینوفیکچر میں 4۔10 فیصد گروتھ ہوئی، ٹیکسٹائل سیکٹر کی ریکارڈ گروتھ ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت میں اوورسیز پاکستانیوں نے 31 ارب ڈالر بھیجے، بیرون ملک پاکستانیوں کو اعتماد تھا عمران خان لندن میں گھر نہیں بنا رہا۔ ہماری حکومت کے آخری دو سال میں ملک کی آمدنی میں اضافہ ہوا، اکنامک سروے کے مطابق 32 ارب ڈالر ایکسپورٹ بڑھی۔
عمران خان نے کہا کہ پچاس سال بعد ہماری حکومت نے ڈیمز بنانے شروع کیے، تیس سال دو خاندانوں نے ملک میں حکمرانی کی، کوئی بڑا ڈیم نہیں بنایا، ڈیم نہ بننے کی وجہ سے بھی لوڈشیڈنگ ہے، مسلم لیگ کی حکومت نے مہنگے پلانٹ لگائے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کہتے ہیں ہم نے قرضوں میں ڈوبو دیا، مسلم لیگ کی حکومت نے جو قرضے لیے ان پر سود دینا پڑتا تھا، عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ہماری حکومت میں سب سے زیادہ روزگار ملا۔
عمران خان نے کہا کہ ہماری حکومت نے ہر خاندان کو 10 لاکھ علاج کی سہولت دی، اگر ہماری حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ تھا تو ہیلتھ کارڈ تھا، احساس پروگرام میں بھی سب سے زیادہ پیسے خرچ کیے، نچلے طبقے کو سود کے بغیر قرض دینے تھے۔
مزید پڑھیں:پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں انٹرنیشنل مارکیٹ میں اضافے کے باعث بڑھائیں: مفتاح
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








