وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں نئے سال کا بجٹ پیش کر دیا ہے۔ آئیے ایک نظر ڈال کر دیکھتے ہیں بجٹ میں ہمارے لیے کیا ہے؟
-
کل اخراجات کا تخمینہ 95 کھرب 2 ارب روپے
-
ایف بی آر کے ریونیو کا تخمینہ 7004 ارب روپے
-
صوبوں کا حصہ دینے کے بعد وفاقی حکومت کے پاس نیٹ ریونیو 4904 ارب روپے ہوگا
-
نان ٹیکس ریونیو میں 2000 ارب روپے آمدن کا تخمینہ
-
3950 ارب روپے ڈیٹ سروسنگ پر خرچ ہوں گے
-
ترقیاتی منصوبوں کیلئے 800 ارب روپے مختص
-
دفاع کیلئے 1523 ارب روپے مختص
-
سول انتظامیہ کے اخراجات 550 ارب روپے ہوں گے
-
پنشن کی مد میں 530 ارب روپے مختص
-
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم 250 ارب روپے سے بڑھا کر 364 ارب روپے کردی گئی
-
ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے بجٹ میں 65 ارب روپے کی رقم مختص
-
یوٹیلٹی اسٹور کارپوریشن پر اشیاء کی سبسڈی کیلئے 12 ارب روپے مختص
-
طلبہ کو ایک لاکھ لیپ ٹاپ آسان قسطوں پر فراہم کیے جائیں گے
-
ایک ارب روپے سالانہ کی لاگت سے بائنڈنگ فلم فنانس فنڈ قائم
-
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ
-
بجلی کی پیداوار ، ترسیل اور تقسیم کو بہتر بنانے کیلئے 72 ارب روپے کی رقم مختص
-
دیامر بھاشا ڈیم، مہمند، داسو، نئی گاج ڈیم اور کمانڈ ایریا پروجیکٹس کیلئے 100 ارب روپے مختص
-
شاہراہوں اور بندرگاہوں کیلئے 202 ارب روپے مختص
-
اعلیٰ تعلیم کے منصوبوں کیلئے 51 ارب روپے کی رقم مختص
-
متعدی بیماریوں، طبی آلات کی فراہمی، ویکسینیشن وغیرہ کیلئے 24 ارب روپے مختص
-
ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے تقریباً 10 ارب روپے مختص
-
آئی ٹی برآمدات کو فروغ دینے کیلئے 17 ارب روپے مختص
-
تنخواہ دار طبقے کیلئے انکم ٹیکس کی حد 12لاکھ روپے مقرر
-
کرائے سے ہونے والی آمدنی اور جائیداد کی لین دین پر ٹیکس میں اضافہ
-
ادویات اور سولر پینلز پر ٹیکس چھوٹ
-
موبائل فونز کی درآمد پر 100 روپے سے 16 ہزار روپے تک لیوی عائد
-
1600 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر ایڈوانس ٹیکس بڑھانے کی تجویز
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








