مسلمانوں کی چوتھی مقدس مسجد ابراہیمی کا وجود خطرے میں

تازہ ترین

تازہ ترین

فلسطین میں انسانیت کے مشترکہ تاریخی اور ثقافتی آثار کو تباہ کرنے کے تکنیکی حربوں سے شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں، کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب فلسطین سے اسلامی اور مسیحی تاریخی اور مذہبی آثار اور اہم مقامات کو تباہ کرنے کے حربوں کی خبریں نہ آتی ہوں۔  گزشتہ دنوں القدس میں مسیحی مقدس مقام کو نقصان پہنچانے کی اطلاع آئی تھی۔ اب ایک اہم اسلامی مقام کے متعلق ایسی خبر آگئی ہے۔

فسطین کے علاقے مقبوضہ غربِ اردن (مغربی کنارے) کے جنوبی شہر الخلیل میں قائم مسلمانوں کی چوتھی مقدس اور تاریخی مسجد ابراہیمی سے متصل عمارت کا ایک حصہ مہندم ہوگیا، جس سے تاریخی مسجد کے وجود کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمارت کے مذکورہ حصے کے منہدم ہونے کی وجہ عمارت کی مرمت پر اسرائیل کی طرف سے عاید کردہ پابندیاں ہیں۔

الخلیل اوقاف کے ڈائریکٹر جنرل نضل الجبعری نے کہا حرم ابراہیمی کے بالمقابل اور ملحقہ عمارت میں دراڑوں اور جزوی طور پر گرنے کے نتیجے میں مسجد ابراہیمی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اسرائیلی حکام کو متنبہ کیا ہے کہ اگر مسجد ابراہیمی سے متصل عمارتوں کی مرمت کی اجازت نہیں دی جاتی تو اس کے نتیجے میں مسجد ابراہیمی کو بھی خطرات لاحق ہیں۔

الجبعری نے اس بات پر زور دیا کہ مقدسات کے خلاف قابض اسرائیل کی سنگین اور بار بار خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے ممکنہ اقدامات کیے جائیں اور مسجد ابراہیمی کو لاحق خطرات کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھایا جائے۔

 مسجد ابراہیمی کو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے نسبت حاصل ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ جگہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ملکیت تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو تینوں آسمانی مذاہب یہودیت، عیسائیت اور اسلام میں احترام اور تقدس کا مقام حاصل ہے۔

حضرت ابراہیم سے نسبت کے باعث اس جگہ کو تینوں مذاہب کے ماننے والوں کے ہاں خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین میں جس مذہب کے ماننے والوں کا غلبہ رہا، انہوں نے اس مسجد کو اپنی مذہبی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالا۔

بتایا جاتا ہے کہ پہلی بار اسے ایک یہودی بادشاہ نے معبد بنایا۔ پھر رومی عیسائی فلسطین پر قابض ہوئے تو انہوں نے اسے چرچ بنایا۔ اسلام کا یہاں غلبہ ہوا تو اسے مسجد میں ڈھالا گیا۔ 

اب اسرائیل اسے یہودی سانچے میں ڈھالنے کی پالیسی پر عامل ہے، جس کیلئے طریقہ کار یہ اپنایا  گیا ہے کہ اس مسجد کی مرمت سمیت رینویشن کے کسی بھی کام پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ 

اس اقدام کا مقصد یہ بتایا جاتا ہے کہ رفتہ رفتہ مسجد کی عمارت بوسیدہ ہو کر گر جائے گی، تو اس پر قبضہ کرلینا آسان ہوجائے گا۔ فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل فلسطین بھر میں موجود تمام اسلامی آثار اور مقدس مقامات کے متعلق اسی حربے پر عمل پیرا ہے۔ 

او آئی سی، عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس، تعلیم و ثقافت کو مسجد خلیل سمیت فلسطین میں موجود تمام مذاہب کے قدیم آثار کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

مسجد خلیل سمیت ایسے تمام ثقافتی اور تاریخی اہمیت کے حامل مقامات صرف مسلمانوں کا ہی نہیں پوری انسانیت کا مشترکہ ثقافتی ورثہ ہیں۔ تاریخ، مذہب اور ثقافت سے وابستہ مقامات تعلیم اور تحقیق کا اہم ذریعہ ہیں۔ ان کی تباہی کو روکنا اور ان کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے عالمی سطح پر رائج قوانین کے لازمی اطلاق کیلئے موثر عالمی اداروں کو حرکت میں آنا چاہیے۔

Related Posts