برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں قید 5 برطانوی شہریوں کو رہا کردیا گیا ہے۔ واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت سے معذرت کی گئی ہے۔
برطانوی سیکریٹری خارجہ لز ٹرس کا ٹوئٹر پیغام میں کنا ہے کہ خوشی کی بات ہے کہ افغانستان میں قید 5 برطانوی شہریوں کو رہا کرانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
فارن کامن ویلتھ اور ڈیولپمنٹ آفس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان پانچوں افراد کا برطانوی حکومت کے افغانستان میں کاموں سے کوئی تعلق نہیں تھا، انہوں نے حکومت برطانیہ کی ٹریول ایڈوائزری کے خلاف افغانستان کا سفر کیا جو ایک غلطی تھی۔
برطانوی حکومت نے 12 فروری کو ایک بیان میں بتایا تھا کہ کئی برطانوی شہری افغانستان میں گرفتار کئے گئے ہیں اور اس معاملے کو طالبان کے ساتھ اٹھایا گیا ہے۔
جن افراد کو افغانستان میں حراست میں لیا گیا ان میں صحافی اور بزنس مین پیٹر جوینال بھی شامل تھا، جسے دسمبر میں بھی روکا گیا تھا۔
طالبان کی جانب سے گزشتہ روز بتایا گیا تھا کہ بی بی سی کے سابق نمائندے سمیت 2 غیر ملکی کو رہا کیا گیا ہے۔
فارن کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس نے اپنے تازہ بیان میں مزید کہا ہے کہ ہم حراست میں لئے گئے برطانوی شہریوں کے اہل خانہ کی جانب اس بات پر معذرت خواہ ہیں کہ ان کی جانب سے افغان ثقافت، رسم و رواج یا قوانین کی کوئی بھی خلاف ورزی ہوئی، ساتھ ہی مستقبل میں اچھے رویے کی یقین دہانی کراتے ہیں۔
بیان میں برطانوی حکام کا مزید کہنا ہے کہ برطانوی حکومت اس سارے معاملے پر شرمندہ ہے۔