شعبۂ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کی کمی سے یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔جدید تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ طویل المدتی بے خوابی اور کمزور علمی کام کاج کا تعلق براہِ راست ہوتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی جرنل آف ایجنگ اینڈ ہیلتھ میں شائع کیے گئے تحقیقی نتائج سے پتہ چلا کہ بے خوابی کی شدید علامات ان لوگوں میں بد تر علمی و تحقیقی کام سے وابستہ ہیں جو اپنے شعبہ جات سے ریٹائر ہوچکے تھے۔
ایمازون، پاکستان تیزی سے ابھرتی مارکیٹس کی رینکنگ میں تیسرے نمبر پر

مطالعے کے اہم محقق اینٹی ایتھولن کا کہنا ہے کہ بے خوابی کی طویل المدتی علامات یادداشت کی کمزوری، سیکھنے کی صلاحیت سے متعلق مسائل اور ارتکازِ توجہ پر برے اثرات مرتب کرتی ہیں جس سے انسان کسی حد تک چڑچڑابھی ہوسکتا ہے۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








