سپر ٹیکس کے نفاذ کو برآمدی شعبوں نے صنعتوں کیلئے تباہ کن قرار دیدیا

تازہ ترین

تازہ ترین

کراچی: برآمدی شعبوں نے سپر ٹیکس کے نفاذ کو برآمدی صنعتوں کیلئے تباہ کن قرار دیدیا۔

تفصیلات کے مطابق برآمدی شعبوں نے سپر ٹیکس کے نفاذ کو برآمدی صنعتوں کے لیے تباہ کن قرار دیتے ہوئے اُسے فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل ایکسپورٹ انڈسٹریز کے نمائندوں نے نجی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ واحد شعبہ ہے جو نامساعد کاروباری حالات کے باوجود اپنی مدد آپ کے تحت جارحانہ مارکیٹنگ کے ذریعے بہترین برآمدی کارکردگی کا مظاہرہ کررہا ہے لیکن اس شعبے پر عائد متعدد ٹیکسوں کی موجودگی میں اضافی 10 فیصد سپر ٹیکس نافذ کرکے اس شعبے کی بقا کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

پاک ایران دوطرفہ تجارتی ہدف بڑھانے پر اتفاق

نمائندوں کا کہنا تھا کہ سپر ٹیکس کے نفاذ سے ایکسپورٹس تنزلی کی طرف جائے گا اور برآمد کنندگان کی کاوشوں کو بھی تباہ کردے گا، حالانکہ اس شعبے کا پاکستان کی مجموعی برآمدات میں حصہ تقریباً 31.7 ارب ڈالر ہے۔ متعدد ٹیکسوں کی موجودگی میں اضافی سپر ٹیکس ایکسپورٹ سیکٹر کے لیے مکمل طور پر بندش کا باعث بن سکتا ہے جو بڑے پیمانے پر بے روزگاری لائے گا اور بدامنی پھیلائے گا۔

Related Posts