مسلم لیگ ق کے ووٹ شمار ہونے چاہیے یا نہیں؟ قانونی ماہرین کیا کہتے ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

مسلم لیگ ق کے ووٹ شمار ہونے چاہیے یا نہیں؟ قانونی ماہرین کیا کہتے ہیں؟
مسلم لیگ ق کے ووٹ شمار ہونے چاہیے یا نہیں؟ قانونی ماہرین کیا کہتے ہیں؟

ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری نے (ق) لیگ کے 10 ووٹ مستردکردیئے، جس کے بعد ن لیگ کے حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے۔

چوہدری شجاعت نے خط میں کیا لکھا تھا؟

گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں ووٹنگ کا عمل شروع ہوا جاتا تھا کہ میڈیا پر چوہدری شجاعت کے خط کی گونج نے میڈیا میں جیسے طوفان برپا کر دیا۔جس کے بارے میں یہ بتایا گیا کہ مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت نے ایک خط کے ذریعے اپنے ممبران کو پیغام دیا کہ وہ تحریکِ انصاف کے اُمیدوار کو ووٹ مت دیں۔

بعدازاں چوہدری شجاعت کے اِس خط کے بعد چوہدری پرویز الہٰی کا ٹوئٹ بھی سامنے آگیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 63 بالکل واضح ہے، چوہدری شجاعت کی کوئی اہمیت نہیں، ہدایات صرف پارلیمنٹ میں موجود پارلیمانی لیڈر ہی دے سکتا ہے، جو اس وقت چوہدری پرویز الٰہی ہیں۔ بے شک عدالت جانا پڑے، لیکن آخری فیصلہ آئینی ہوگا۔

خط پڑھنے کے بعد ڈپٹی اسپیکر کا فیصلہ

ڈپٹی اسپیکر نے اس خط کا حوالہ دیتے ہوئے، سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا تذکرہ کیا ہے جو آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر جاری کیا گیا تھا اور جس میں قرار دیا گیا تھا کہ منحرف رکن کا ووٹ شمار نہیں ہو گا۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کی اسی فیصلے کی بنیاد پر تحریک انصاف کے 25 اراکین صوبائی اسمبلی ڈی سیٹ ہوئے اور خالی ہونے والی نشستوں پر ضمنی انتخابات کے نتیجے میں تحریک انصاف کامیاب جماعت بن کر اُبھری تھی۔

آئین کا آرٹیکل 63 اے کیا کہتا ہے؟

آئین کے آرٹیکل 63 اے کے مطابق کسی رکن پارلیمان کو انحراف کی بنیاد پر نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر رکن پارلیمان وزیراعظم یا وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے اپنی پارلیمانی پارٹی کی طرف سے جاری کردہ ہدایت کے خلاف ووٹ دیتا ہے تو اُسے نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔

آئین کے آرٹیکل 63 اے میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں پارٹی سربراہ کو تحریری طور پر اعلان کرنا ہو گا کہ متعلقہ رکن اسمبلی منحرف ہوگیا ہے تاہم ریفرنس دائر کرنے سے پہلے پارٹی سربراہ منحرف رکن کو وضاحت دینے کا موقع فراہم کرے گا۔ اگر پارٹی کا سربراہ وضاحت سے مطمئن نہیں ہوتا تو پھر پارٹی سربراہ اعلامیہ اسپیکر کو بھیجے گا اور اسپیکر وہ اعلامیہ چیف الیکشن کمشنر کو بھیجے گا۔

آرٹیکل 63 اے کے بارے میں سپریم کورٹ کی کیا رائے ہے؟

گزشتہ ماہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ نے تین دو کے اکثریتی فیصلے میں کہا تھا کہ منحرف اراکین کا ووٹ شمار نہیں ہو گا اور پارلیمان ان کی نااہلی کی مدت کے لیے قانون سازی کرسکتی ہے۔

یاد رہے کہ سیاسی جماعتوں کے منحرف اراکین سے متعلق اس ریفرنس کی سماعت سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے کی تھی جس میں چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل تھے۔

بینچ کے ارکان جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے بنچ کے تین ارکان سے اختلاف کرتے ہوئے اپنے اقلیتی فیصلے میں لکھا کہ آئین کا آرٹیکل 63 اے اپنے آپ میں ایک مکمل کوڈ ہے جو پارلیمان کے کسی رکن کی ‘ڈیفیکشن یعنی انحراف اور اس کے بعد کے اقدام کے بارے میں جامع طریقہ کار بیان کرتا ہے۔

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ ان کی رائے میں ’آئین کی شق 63 اے کی مزید تشریح آئین کو نئے سرے سے لکھنے یا اس میں وہ کچھ پڑھنے کی کوشش ہوگی اور اس سے آئین کی دیگر شقیں بھی متاثر ہوں گی، جو صدر نے اس ریفرنس کے ذریعے پوچھا تک نہیں ہے۔ اس لیے ایسا کرنا ہمارا مینڈیٹ نہیں۔‘

قانونی ماہرین کی کیا رائے ہے؟

قانونی ماہرین کے خیال میں سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اگر پارٹی سربراہ کی ہدایت کے برعکس کوئی ووٹ دے گا تو وہ ممبر ناصرف ڈی سیٹ ہوگا بلکہ اس کا ووٹ بھی شمار نہیں کیا جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ممبران نے کس کو ووٹ دینا ہے اور کس کو نہیں، آئین میں لکھے گئے الفاظ کے مطابق اس کا فیصلہ ’پارلیمانی پارٹی‘ کرے گی۔ اگر الیکشن کمیشن کا فیصلہ دیکھا جائے اور اسے بنیاد بنایا جائے تو چوہدری شجاعت کی بات کو ہی حتمی فیصلہ مانا جائے گا۔

 

Related Posts