کوئٹہ: بلوچستان پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مون سون کی بارشوں کے باعث بننے والے سیلاب کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں 42 مرد، 34 بچے اور 30 خواتین سمیت کم از کم 107 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
بلوچستان پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں رواں مون سون سیزن میں شدید بارشوں کے باعث 62 کے قریب افراد زخمی ہوئے جبکہ 1000 سے زائد افراد بے گھر ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بارش سے متعلقہ واقعات میں ہلاکتیں چمن، کچی، بارکھان، ڈیرہ بگٹی، ژوب، دکی، پشین، پنجگور، کوہلو، ہرنائی، قلعہ سیف اللہ، سبی، لسبیلہ، لورالائی، جعفرآباد، قلات، کیچ، خضدار اور دیگر اضلاع میں ہوئیں۔
پی ڈی ایم اے کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کیچ، بارکھان، ڈیرہ بگٹی، ژوب، جھل مگسی اور خضدار میں 6077 مکانات کو مکمل یا جزوی نقصان پہنچا۔
پی ڈی ایم اے کے اہلکاروں نے مقامی انتظامیہ اور ڈی ڈی ایم اے کے مطالبے پر بروقت جواب دیا اور امدادی اشیاء جن میں 10375 خیمے، 7630 لحاف، 1400 پلاسٹک کی چٹائیاں، 2570 کچن سیٹ، 100 چارپائی، 734 سولر لائٹ، 8260 ترپال اور دیگر اشیاء سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں کے لوگوں میں تقسیم کیں۔
کیچ، تربت لسبیلہ اور جھل مگسی سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ سڑکیں منقطع ہوگئیں،تاہم پاک فوج اور صوبائی حکومت کی جانب سے ہیلی کاپٹر کی فراہمی کے بعد امدادی کارروائیاں جنگی بنیادوں پر جاری ہیں۔
پی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ اور دیگر محکمے بارش سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور ریسکیو آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ موجودہ ہنگامی صورتحال میں لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کی جا سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے 565 کلومیٹر طویل شاہراہوں اور 44 پلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
شدید بارشوں سے 712 مویشیوں کا بھی نقصان ہوا اور 197,930 ایکڑ زرعی اراضی کو نقصان پہنچا۔ بڑے ڈیموں کا کوئی نقصان نہیں ہوا تاہم 1020 چھوٹے ڈیموں کو نقصان پہنچا جن کی بحالی کا کام جاری ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے بارش سے متاثرہ علاقوں میں عوام کی مشکلات کے حل کے لیے متعلقہ محکموں کو فعال رہنے کی ہدایت کی۔
پی ڈی ایم اے نے موسم کی صورتحال کے پیش نظر تمام انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ تمام ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ رابطے میں روزانہ کی بنیاد پر ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:بارشیں زحمت بن گئیں، پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے کس طرح متاثر ہورہا ہے؟
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








