ایان علی کے مولانا طارق جمیل پر الزامات، بار بار رابطے کی تفصیلات شیئر کردیں

تازہ ترین

تازہ ترین

معروف ماڈل ایان علی نے عالمِ دین مولانا طارق جمیل سے رابطے اور اسلام سے رجوع کی حقیقت بتاتے ہوئے کہا ہے کہ 2015 میں میرے مولانا طارق جمیل سے رابطے اور رو دھو کر تائب ہو کر اسلام سے رجوع کرنے کے متعلق خبر شائع ہوئی تھی جس میں کوئی حقیقت نہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں گزشتہ روز ایان علی نے کہا کہ یہ  اُن دنوں کی بات تھی جب ہم لاہور، کراچی، اسلام آباد میں اپنے خلاف قائم ان گنت جعلی مقدمات بھگت رہے تھے اور اس سلسلے میں تقریباً ہر روز ہوائی سفر کر تے تھے انہی میں سے ایک دن ہم لاہور ائیرپورٹ پر فلائٹ کا انتظار کر رہے تھے کہ ایک نوجوان نے ہماری سیکیورٹی سے ہم تک رسائی چاہی۔

نوجوان کے متعلق ایان علی نے کہا کہ وہ چہرے سے مذہبی رجحان کا حامل دکھائی دیتا تھا ہم خود کیونکہ مذہب کی جانب مائل ہیں اور دینی لوگوں کا احترام کرتے ہیں لہٰذا ہم نے سیکیوریٹی سے اس نوجوان کو آگے آنے دینے کا کہا۔اس نوجوان نے فوراً اپنا تعارف مولانا طارق جمیل کے قریبی کے طور پر کروایا اور کہا کہ یہ اس کی خوش قسمتی ہے کہ اس کی ہم سے ملاقات ہوگئی۔ 

یہ بھی پڑھیں:

امریکی اداکار عجیب و غریب بیماری میں مبتلا، دیکھنے سننے کی صلاحیت متاثر

ایک اور ٹوئٹر پیغام میں ایان علی نے کہا کہ مولانا طارق جمیل کو کئی مرتبہ ہمارے لیے زار و قطار دعائیں مانگتے دیکھا ہے اور یہ کہتے سنا ہے کہ اس لڑکی کے ساتھ بہت زیادتی ہو رہی ہے۔اللہ تعالی اس کی مشکلیں آسان فرمائے اور یہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب ہمارے خلاف غلیظ ترین کردار کشی کی مہم قومی مشغلہ بن گئی تھی۔ یہ جان کر بے انتہا خوشی ہوئی کہ کوئی عالمِ دین ہمارے لیے غائبانہ دعا کرتا ہے۔

معروف ماڈل نے کہا کہ ہم نے اس نوجوان سے کہا کہ جب بھی اُس کی مولانا سے ملاقات ہو وہ اُن کا ہماری جانب سے بے حد شکریہ ادا کرے۔ جواباً اُس نوجوان نے کہا کہ مولانا اِس وقت حرمین شریفین میں ہیں اور اگر ہم چاہیں تو وہ ہماری اُن سے فون پر بات کروا سکتا ہے تاکہ ہم خود اُن کا شکریہ ادا کریں اور اپنے لیے دعا کا کہیں۔ مذہبی جزبات سے مغلوب ہو کر ہم نے ہامی بھر لی۔

نوجوان نے نمبر تو ملایا مگر فون اٹینڈ نہیں کیا گیا۔ ایان علی کا کہنا ہے کہ اُس نوجوان نے ایک ٹیکسٹ میسج کے ذریعے مولانا طارق جمیل کو آگاہ کیا کہ وہ اس وقت ہمارے ساتھ ہے۔ ٹیکسٹ میسج جانے کے قریب نصف منٹ کے اندر اندر مولانا کی کال آ گئی۔ اُس نوجوان نے فون ہمارے حوالے کیا تو ہم نے مولانا کا غائبانہ دعاؤں کے لیے شکریہ ادا کیا اور مزید دعاؤں کی درخواست کی۔

ماڈل ایان علی کے مطابق مولانا کا کہنا تھا کہ وہ مسلسل ان کی دعاؤں میں شامل تھیں۔ وہ ان کے انتہائی خیر خواہ ہیں اس کے بعد مولانا نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ہم (ایان علی) اُن کی حرمین شریفین سے واپسی پر اُن سے کراچی میں ملاقات کریں۔ہم بنیادی طور پر اپنی ذات میں رہنے کی عادی اور زیادہ میل جول کی عادت نہیں رکھتے۔ اس لیے وعدے کی بجائے محض ان شاء اللہ پر اکتفاء کیا۔

ایان علی کا کہنا ہے کہ مولانا ان شاء اللہ پر راضی نہ ہوئے اور پُر زور اصرار کیا کہ ہم ملاقات کیلئے وقت دیں۔ ہم نے  اخلاقاً کہا کہ آپ واپس آئیں گے تو ہم  رابطہ کر لیں گے مگر مولانا اس پر بھی راضی نہ ہوئے۔اصرار کیا کہ آپ اپنا نمبر دیں، ہم  رابطہ کریں گے۔ کیونکہ فلائٹ کا وقت قریب تھا اور ہم مولانا سے بد ظن بھی نہ تھے تو ہم نے اپنے ایک  اسٹاف کا نمبر دے دیا اور سفر شروع کردیا۔

دھچکا ایان علی کو اگلے روز لگا جب یہ مختصر نجی گفتگو انتہائی ڈرامائی انداز میں کئی اخبارات کی زینت بنی۔ ایان علی کا کہنا ہے کہ اخبارات میں چھپنے والی خبر کے مطابق ہم مولانا سے گفتگو کے دوران اشک بار رہے، توبہ کرتے رہے اور اپنی نمازوں روزوں اور تلاوت کا حساب دے کر خود کو اچھا مسلمان ثابت کرتے رہے۔ یہ مکمل طور پر جھوٹ اور بے بنیاد بیان تھا جس کا  ذریعہ واضح تھا۔

بطور مسلمان ایان علی توبہ کے لیے کسی مولانا کے طلب گار نہ تھیں اور نہ ہیں۔ ایان علی کا کہنا ہے کہ ہم نے مولانا کو ایک مذہبی شخصیت  سمجھتے ہوئے احترام ضرور دیا تھا مگر انہوں نے اسے مارکیٹنگ کیلئے استعمال کیا۔ ان کا طرزِ عمل صدیوں سے مذہبی جزبات سے مغلوب لوگوں کا اپنی ذات کے لیے استحصال ثابت کرتا ہے۔کچھ ہفتے بعد مولانا حرمین شریفین سے پاکستان تشریف لے آئے اور پھر ہمارے اسٹاف کے نمبر پر ان کی کالز شروع ہو گئیں۔

اس وقت تک ایان علی مولانا طارق جمیل سے بد ظن ہوچکی تھیں۔ ایان علی کا کہنا ہے کہ میں نے کچھ عرصے تک ٹال مٹول کی اور مجبوراً مولانا کا نمبر بلاک کردیا۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ علماء کیلئے ہمارے دل میں ذاتی طور پر ایک خاص احترام ہے جس کا اظہار ہم گاہے بگاہے کرتے رہتے ہیں۔ مولانا کے ہمارے متعلق روئیے کے باوجود ہم نے ان کا بطور عالمِ دین احترام مدِ نظر رکھا اور ٹرولنگ کے دوران ان کا ساتھ بھی دیا۔

ساتھ دینے کی وجہ بیان کرتے ہوئے ایان علی نے کہا کہ ہم  اس مسند کی تضحیک نہیں چاہتے تھے جس پر مولانا براجمان تھے مگر آج جب انہوں نے ایک ایسے شخص کی حمایت میں کذب بیانی کی جو اپنی سیاست میں اسلام کا توہین آمیز استعمال جائز سمجھتا ہے تو وہ اس مسند سے خود ہی برخاست ہو گئے۔ مولانا کی کرم فرمائیوں سے قوم اور خاص طور پر خواتین کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔ افسوس کہ نمائش اور بادشاہوں کے قرب نے ایک عالم کا یہ انجام کردیا۔

حیرت انگیز طور پر ایان علی نے اپنے تمام تر ٹوئٹر پیغامات کے آخر میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امامِ اعظم نے علماء کو ان فتنوں سے دور رہنے کیلئے کہا تھا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ رب العزت ہم سب کو آزمائشوں سے دور رکھے۔ آخر میں ایان علی نے پاکستان زندہ باد، عدلیہ اور پاک فوج زندہ باد کے نعرے بھی لگائے۔ 

Related Posts