کراچی کا جناح اسپتال تباہ حالی کا شکار، گٹر ابلنے لگے، مریض پریشان

تازہ ترین

تازہ ترین

کراچی کا جناح اسپتال تباہ حالی کا شکار، گٹر ابلنے لگے، مریض پریشان
کراچی کا جناح اسپتال تباہ حالی کا شکار، گٹر ابلنے لگے، مریض پریشان

کراچی کا جناح اسپتال تباہ حالی کا شکار ہوگیا، صفائی ستھرائی جیسے بنیادی اقدامات ناپید ہوچکے ہیں جس کے سبب اسپتال میں انفیکشن فری علاج کا تصور مشکل نظر آتا ہے۔

محکمہ صحت سندھ کے ماتحت جناح اسپتال کراچی میں صفائی ستھرائی کی صورتحال بے خراب ہوچکی ہے۔ سرجیکل بلڈنگ اور نیورو سرجری میں اب گٹر بھی اُبلنا شروع ہوگئے ہیں، جس سے اسپتال آئے مریضوں کو علاج کے بجائے مزید بیماریاں ملنے لگیں ہیں۔ 

سیوریج کا پانی جمع ہونے سے سرجیکل وارڈز میں آنے والے مریضوں، تیمارداروں سمیت ڈاکٹرز اور طبی عملے کو بھی پریشانی کا سامنا ہے۔

اسپتال کی پرانی بلڈنگ کچرا کنڈی کا منظر پیش کرنے لگی ہے، جگہ جگہ گندگی اور تعفن کی وجہ سے اسپتال آنے والے لوگ بے حد پریشان ہیں لیکن انتظامیہ غفلت کی نیند سوئی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

مریضوں اور تیمارداروں کے مطابق انتظامیہ سے کئی بار شکایات کی گئی لیکن وہ سننے کو تیار نہیں، اسپتال میں باتھ رومز بھی صاف نہیں اور کئی جگہ چھتوں سے پانی ٹپک رہا ہے۔

اسپتال کے ڈینگی خواتین وارڈ میں مچھر دانیوں کی سہولت بھی موجود نہیں جس سے ڈینگی سے متاثرہ افراد کو مزید مچھروں کے کانٹے کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

اسپتال میں غلاظت کے سبب آب و ہوا تعفن زدہ ہوگئی ہے اور درو دیوار غلاظت کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ در و دیوار رنگ وروغن سے محروم جبکہ جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر پڑے ہیں۔

سرکاری اسپتال ہونے کے باوجود شہری ٹیسٹ اور ادویات باہر سے خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ مفت علاج کی غرض سے آئے مریض شکوہ کرتے نظر آرہے ہیں۔

مریضوں کی جانب سے کہا گیا کہ اسپتال میں گندگی اور غلاظت حکومتی اداروں کی غیر سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے، شہر میں ریکارڈ توڑ ڈینگی کیسز کے باوجود سندھ حکومت اور انتظامیہ خوابِ غفلت سے جاگنے کو تیار نہیں ہے۔ اسپتالوں میں مریضوں کا رش بڑھنے سے مسائل تشویشناک ہوگئے ہیں۔

Related Posts