صوبائی حکومت کا خیبر پختونخوا کے علاقوں میں مسلح طالبان کی موجودگی کا انکشاف

تازہ ترین

تازہ ترین

طالبان
(فوٹو: آن لائن)

پشاور: خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے صوبے کے مختلف علاقوں میں طالبان کی موجودگی کا انکشاف کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ قبائلی پٹی پر بھی مسلح طالبان موجود ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اپنے ایک بیان میں صوبائی معاونِ خصوصی اطلاعات محمد علی سیف نے کہا کہ طالبان کو ہم نے کوئی علاقہ نہیں دیا، نہ ہی کارروائی کی اجازت دی۔ انڈراسٹینڈنگ یہ ہوئی کہ اگر ٹی ٹی پی دہشت گردی کی مرتکب ہوتی ہے تو ذمہ داری قبول کرے۔

یہ بھی پڑھیں:

اعظم سواتی جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

معاونِ خصوصی نے کہا کہ ٹی ٹی پی پاکستان کی ریاست کے خلاف لڑنے والی جنگجو تنظیم ہے، اس کے سربراہ کا نام مفتی نور ولی محسود ہے اور مختلف علاقوں کے کمانڈرز ان کی رہبری شوریٰ کے ممبران ہیں۔ ٹی ٹی پی سے تعلق رکھنے والے کئی لوگوں نے پاکستان کے خلاف جنگ لڑی۔

واضح رہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کے متعدد علاقوں میں دہشت گردی میں ملوث رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی سے الگ ہونے والے لوگ ہماری حکومت اور ٹی ٹی پی کے مذاکرات سے اختلاف رکھتے ہیں اور کھل کر کہتے ہیں کہ ہمیں پاکستان سے مذاکرات نہیں بلکہ جنگ چاہئے۔ 

قبل ازیں وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری سمیت وفاقی حکومت افغانستان میں ٹی ٹی پی کے سرکردہ لوگوں سے مذاکرات کا اعتراف کرچکے ہیں جس کا مقصد جنگ بندی اور پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ ہے تاہم دہشت گردی تاحال ختم نہیں ہوسکی۔

Related Posts