انقرہ: ترک پارلیمنٹ نے ایک نئے قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کو جھوٹی افواہ پھیلانے پر تین سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔
ترکی کی حکمراں جماعت کی جانب سے منظور کیے گئے اس قانون کی انسانی حقوق کے کارکنوں اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت دیگر اداروں نے سخت مذمت کی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق نئے قوانین عام انتخابات سے آٹھ ماہ قبل میڈیا پر حکومت کی پہلے سے مضبوط گرفت کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔
برطانیہ کا پاکستان میں سیلاب متاثرین کیلئے اضافی 10 لاکھ پاؤنڈز امداد کا اعلان
اس نئے قانون پر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آج ترکی میں اظہارِ رائے کی آزادی کا سیاہ د ن ہے، گزشتہ چند سالوں میں میڈیا پر حکومت کے بڑھتے ہوئے کنٹرول کے بعد ان نئے اقدامات کا مقصد انتخابات سے قبل حکومت پر کی جانے والی تنقیدی آوازوں کو خاموش کرانا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مزید کہا کہ اس نئے قانون کے بعد لوگوں میں خوف و ہراس پھیلے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








