چاراکتوبر 2022کوکراچی کےایک نجی اسپتال میں 21سالہ ماریہ (فرضی نام) اپنا معمول کا چیک اپ کروانے گائنی ڈاکٹرکےپاس گئی۔ ماریہ سخت پریشان تھی کہ اس کا آخری مہینہ چل رہاہے اب کیا ہوگا۔ ماریہ کو شروع سے ہی ڈاکٹر نارمل ڈلیوری کا کہتی آرہی تھی، جس سے اسے اطمینان تھا لیکن اب آخری دنوں کے قریب آتے ہی ڈاکٹرنے کانٹا بدل کر نئی منطق پڑھانا شروع کردی کہ بچہ دانی میں پانی کم ہے،بچہ کمزورسانسیں لےرہاہے۔
ڈاکٹر کی یہ بات سن کر ڈلیوری کا سوچتے ہوئے اس کا سر چکرانے لگا کہ اب کیا اور کیسے ہوگا یہ سب؟ماریہ کو اس بات کی بھی پریشانی لاحق تھی کہ آخر میں جاکر بات آپریشن پر ہی ٹلی تو وہ گھروالوں کوکیاجواب دے گی؟ اہل خانہ نے اسے پہلےدن سے ہی منع کر رکھا تھا کہ پرائیوٹ اسپتال مت جانا، یہ غیرضروری آپریشن کراتےہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
عرب امارات کا قابل اساتذہ کیلئے زبردست مراعات کا اعلان
اب وہی ماریہ کے سامنے تھا جس کا اس کے گھر والے سوچ کر اسے منع کر رہے تھے۔
ماریہ نےگزشتہ 8ماہ خودپربہت محنت کی تھی۔ واک بھی کرتی رہی۔ اپنی ڈائٹ، بلڈپریشرکوکنٹرول رکھا۔ اس سب کے ساتھ سسرال اور شوہرکی بھی خواہش تھی کہ نارمل ڈلیوری ہو، مگر اب ڈاکٹر کی “نئی ڈائگنوسز” اس سب پر پانی پھیرتی دکھائی دے رہی تھی اور اس پانی میں ماریہ کا نارمل ڈلیوری کا خواب ڈوبتا محسوس ہو رہا تھا۔
ڈاکٹر کا نیا فرمان سن کر ماریہ کےشوہر کو بھی اپنے اہل خانہ کی یہ نصیحت سمجھ میں آگئی تھی کہ پرائیویٹ اسپتال والے غیر ضروری آپریشن کرواتے ہیں، ان سے بچ کر رہنا۔ اب ماریہ کے شوہر نے ٹھان لی کہ انہیں دھوکہ دیاجارہاہے، اس لیے وہ کسی دھوکے میں نہیں آئے گا اور اپنی بیوی کا کسی صورت آپریشن نہیں کروائے گا۔
ادھر ڈاکٹرراتوں رات آپریشن کیلئے آستینیں چڑھائے بیٹھی تھی، مگر ماریہ نے اس کی ایک نہ چلنے دی اور ڈاکٹر کو آپریشن سے صاف منع کردیا اور ڈاکٹرکی اس خواہش پرماریہ کےشوہر نےاسےزبردستی اسپتال سےڈسچارج کرکےگھرروانہ کردیا۔
اسپتال انتظامیہ نےمیڈیکل فائل پر”لاما”لکھ دیاجس کےمعنیٰ ہیں مریض کے اہل خانہ اسے طبی مشورے کے خلاف اسپتال سے لے جا رہے ہیں۔
ایسے مشکل حالات میں دیگراسپتال مریض کو لینے سے انکار کرتے ہیں لیکن ماریہ اپنی تسلی کی خاطرشوہرکے دوست کےایک چھوٹےسے کلینک چلی جاتی ہے، جہاں ڈاکٹرفائزہ نئے سرے سے کیس دیکھنے اور ڈائیگنوسز کے بجائے پرانی رپورٹس دیکھ کر موقع سے فائدہ اٹھانے کے چکر میں ماریہ اوراس کے شوہر کو مزید ڈرانا شروع کردیتی ہےکہ اتنےبڑےاسپتال کی رپورٹ میں واضح لکھاہےکہ آپ کاکیس نارمل نہیں ہوسکتا۔ بچےکی جان کوخطرہ لاحق ہوسکتاہےاورآپریشن بری چیزنہیں ہےمیں بھی ایک ڈاکٹرہوں، میرابھی آپریشن ہوچکاہے، اگرآپریشن کراناہےتومیں فوری ٹیم بلاتی ہوں، راتوں رات آپریشن ہوجائےگا۔
ڈاکٹر فائزہ کی وہی پرانی منطق کی جگالی سن کر ماریہ کی فیملی مزیدکنفیوژاورپریشان ہوجاتی ہے کہ خدایا تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں، کہ سلطانی بھی عیاری ہے درویشی بھی عیاری!
ماریہ اوراس کی فیملی کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ چونکہ پہلا بچہ ہے اس لیے کسی بھی طرح ممکن ہو تو آپریشن سے بچا جائے۔دوسری طرف وقت اور مہلت کی ریت مسلسل تیزی سے مٹھی سے پھسلتی جا رہی ہوتی ہے، آخرکار تھک ہار کر ماریہ اور اس کی فیملی دل پر بھاری پتھر رکھ کر آپریشن کیلئےتیارہوجاتے ہیں۔ماریہ بتاتی ہےکہ جب مجھےآپریشن کیلئے تیارکیا جارہا تھا تو مجھے ہلکے ہلکے دردہوناشروع ہوچکےتھےاورمیرے پاس کھڑی نرس نےبھی ڈاکٹرکوآگاہ کیاکہ مریض کالیکوئڈآچکاہےاس کےباجودبھی ڈاکٹرنےسن کر ان سنی کردی اورتیس منٹ بعد خبرآئی کہ ماریہ کابیٹاہواہے
خوشی کی خبرسن کرماریہ کی فیملی کچھ دیرکیلئے آپریشن بھول گئی، اب ماریہ کےآپریشن کودوہفتےگزرچکےہیں، مگر اس کے باوجود وہ مشکلات سہ رہی ہے، کیونکہ زخم جیسے آپریشن کی سوغات کی وجہ سے اٹھنا بیٹھنا ماریہ کیلئےبہت مشکل ہوچکاہے
اب ماریہ کہتی ہےکہ زندگی رہی تو دوسرےبچےمیں گیپ دوں گی اورپوری کوشش ہوگی کہ بڑے نام کے کسی چھوٹے اسپتال کا رخ ہی نہ کروں، وہ تہیہ کرچکی ہے کہ سرکاری اسپتال سے ہی علاج کرائے گی۔
سوال یہ ہےکہ پاکستان میں ماریہ جیسی ہزاروں، لاکھوں مائیں آپریشن کی بھینٹ آخر کیوں چڑھ جاتی ہیں، کہیں یہ
معاملہ مالی مفاد سے تو نہیں جڑا ہوا ہے؟
پاکستان میں ایک عرصے سے آپریشن کے ذریعے بچوں کی پیدائش کی شرح میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس کی وجوہات اکثر بچے کو جنم دینے والی ماؤں کو بھی پتہ نہیں ہوتیں جبکہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مقرر کردہ معیار کے مطابق کسی بھی ملک میں آپریشن کے ذریعے بچے کی ولادت کا تناسب 15 فیصد سے متجاوز نہیں ہونا چاہئے۔
پاکستان میں اس کا کیا تناسب ہے اس حوالے سے کوئی اعداد و شمار موجود نہیں کیونکہ سرکاری سطح پر اسپتالوں سے ریکارڈ اکٹھا نہیں کیا جاتا، کوئی تحقیق نہیں ہوتی،کسی اسپتال،ڈاکٹرکیخلاف بات کرنابہت مشکل ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آپریشن سے بچوں کی ولادت کا تناسب پاکستان میں کہیں زیادہ ہے۔ اس کی آخر کیا وجہ ہے؟
اس حوالے سے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سابق جنرل سکریٹری اور معروف گائیناکالوجسٹ ڈاکٹر شیر شاہ سید کا ایک انٹرویو میں کہنا ہے کہ آپریشن میں اضافے کی ایک وجہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا ہے،بعض اوقات کھبی کوئی مسلئہ ہوا مثلاً کوئی انفیکشن ہوجاتا ہے اور ڈاکٹر محسوس کرتا ہے کہ اپریشن پہلے کر دینا زیادہ مناسب ہے تو آپریشن کر دیا جاتا ہے، ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ نارمل ڈیلوری کی جائے تو پندرہ ہزار روپے مل جاتے ہیں لیکن اگر آپریشن کیا جائے تو اس سے چالیس سےبچاس ہزار مل جاتے ہیں ، اس لئے بعض ڈاکٹر یہ کام کر ڈالتے ہیں۔ اور بعض آپریشن اس لئے ہوتے ہوں گے کہ جونئیر ڈاکڑز کو سکھایا جا سکے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں کوئی ایتھیکل پریکٹس نہیں اور نہ ہی کوئی جانچ پڑتال کرنےکاادارہ ہےجوان سب معاملات کومانیٹرکرسکے۔
وجوہات جو بھی ہیں، یہ طے ہے کہ آپریشن کے ذریعے بچوں کی پیدائش انسانی جانوں کے ساتھ کھیلنے کی سنگین اور گھناؤنی حرکت ہے۔ یہ اپنے پاؤ گوشت کیلئے اگلے کی پوری گائے ذبح کرنے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر چار پیسوں کی خاطر دو قیمتی انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ کیا کوئی ادارہ ہے جو اس آپریشن مافیا کا علاج کرے؟
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








